Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 21

  1. اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ع﴿21﴾

    1. اَمْیا
    2. حَسِبَ الَّذِيْنَخیال کیا ان لوگوں نے
    3. اجْتَرَحُواجنہوں نے کام کیے۔ کمائی کی
    4. السَّيِّاٰتِبرے
    5. اَنْ نَّجْعَلَهُمْکہ ہم کردیں گے ان کو
    6. كَالَّذِيْنَان لوگوں کی طرح
    7. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
    8. وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے عمل کیے اچھے
    9. سَوَآءًبرابر ہے
    10. مَّحْيَاهُمْان کا جینا
    11. وَمَمَاتُهُمْاور ان کا مرنا
    12. سَآءَکتنا برا ہے
    13. مَا يَحْكُمُوْنَجو وہ فیصلہ کررہے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، سمجھتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، ان کی زندگی اور موت یکساں ہوجائے گی ؟ بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ام حسب الذین اجتوجوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت لاسوآء محیاھم ومماتھم ط سآء مایحکمون 21 قیامت کے منکروں کا تصور خدا کے متعلق بالکل باطل ہے یعنی جو لوگ قرآن کے انداز اور اس کی تبشیر کا مذاق اڑا رہے ہیں ان کا تصور گویا یہ ہے کہ جہان کے خالق کے نزدیک مومن اور کافر، نیک اور بد، صالح اور طالح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی زندگی اور موت بالکل یکساں ہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا تصور یہ ہے تو یہ نہایت برافیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ یعنی یہ انسان کے اس شعور عدل کے بالکل منافی ہے جو انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے کوئی شخص خواہ برائی کی زندگی گزارے یا بھلائی کی لیکن وہ اپنے دل کے اندر نیک اور نیکی کا احترام ضرور رکھتا ہے جو شخص معاملات پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالتا ہے وہ ہرگز اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ نیک اور بد دونوں کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے ہر دور میں انسانوں نے جو قوانین جاری کئے ہیں ان میں یہ اصول عدل بنیادی طور پر محلوظ رہا ہے تو جو اصول عدل انسانوں کے اندر اس طرح مسلم ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس سے عاری ہے ؟ اگر نیک و بد دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں تو اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ یا تو نعوذ باللہ ظالم اور نا منصف ہے یا نیکی اور بدی کے معاملہ میں بالکل بےحس اور یہ ایسی باتیں ہیں جن کا خدا کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ عادل و منصف ہے تو ضروری ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں لوگوں کے درمیان بےلاگ انصاف کرے ان لوگوں کو پورا پورا انعام دے جنہوں نے نیکی اور عدل کی زندگی گزاری اور ان لوگوں کو پوری سزا دے جنہوں نے فسق اور نافرمانی کی زندگی بسر کی ایک ایسے دن کا ظہور اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ دنیا آزمائش کے قانون پر چل رہی ہے۔ اس میں نیک وبدونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے کہ خواہ ہو نیکی کی زندگی بسر کریں یا بدی کی، ضرورت نہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دے جو برائی کی زندگی بسر کریں یا ان لوگوں کو صلہ دے جو نیکی کی زندگی گزاریں اس کے لئے اللہ نے ایک خاص دن مقرر کر رکھا ہے قرآن اسی دن کی سزا یا اس دن کے انعام سے لوگوں کو آگاہ کرنے یا اس کی بشارت دینے آیا ہے بس جو لوگ اس انداز اور بشارت کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ گویا یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس کائنات کا خالص محض ایک کھلنڈر اور تماشائی ہے جو دنیا کو پیدا کر کے اس کا تماشا دیکھ رہا ہے اس کے خیر اور شر سے اس کو کچھ بحث نہیں۔