Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 22

  1. وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿22﴾

    1. وَخَلَقَ اللّٰهُاور پیدا کیا اللہ نے
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
    3. وَالْاَرْضَاور زمین
    4. بالْحَقِّحق (حکمت) کے ساتھ
    5. وَلِتُجْزٰىاور تا کہ بدلہ دیا جائے
    6. كُلُّ نَفْسٍۢہر شخص
    7. بِمَااس کا
    8. كَسَبَتْجو اس نے کمایا (اعمال)
    9. وَهُمْاور وہ
    10. لَا يُظْلَمُوْنَظلم نہ کئے جائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو اس کے کئے کا اور ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وخلق اللہ السموت والارض بالحق ویتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون 22 نادانوں کے زعم کے علی الرغم خالق نے یہ دنیا پالحق پیدا کی ہے یعنی نادانوں نے تو یہ گمان کر رکھا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک غایت اور نہایت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس غایت و نہایت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فصلہ فرمائے اور ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ ہے، اس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا چلتے چلتے بس یونہی ایک دن تمام ہوجائے، اس کے بعد نہ کوئی جزا ہو نہ سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا بالحق نہیں بلکہ ایک عبث اور باطل کارخانہ اور ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے اور اس کا خالق ایک تماشا پسند ہے جس نے بالکل بےمقصد اتنا بڑا کارخانہ کھڑا کردیا ہے۔ بالحق کے بعد یفصل بینھم یا اس کے ہم معنی الفاظ میرے نزدیک محذوف ہیں۔ لتجزی کل نفس اسی محذوف پر معطوف ہے۔ وھم لایظلمون کی قید سے مقصود یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس دن ہر جان کے ساتھ بالکل بےلاگ انصاف ہو، کسی پہلو سے کسی کی کوئی حق تلفی نہ ہو۔ اگر اس حق تلفی کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا پھر بالکل عبث اور باطل ہو کے رہ جاتی ہے۔ یہ قید شرک و شفاعت کے ان باطل تصورات کی نفی کے لئے بڑھائی گئی ہے جن میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی ان تصورات کے ساتھ آخرت کو ماننا یا نہ ماننا دونوں کے ساتھ تھا۔ جب عقیدہ یہ ہو کہ آدمی کے اعمال خواہ کچھ ہی ہوں شفعاء و شرکاء اپنی شفاعت اور زور و اثر سے بخشوا ہی لیں گے تو بےلاگ انصاف کہاں رہا ! پھر تو ہر ظلم و ناانصافی کے لئے راہ کھل گئی۔