Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 23

  1. اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿23﴾

    1. اَفَرَءَيْتَکیا پھر تم نے دیکھا
    2. مَنِ اتَّخَذَجس نے بنا لیا
    3. اِلٰهَهٗاپنا الہ
    4. هَوٰىهُاپنی خواہش نفس کو
    5. وَاَضَلَّهُ اللّٰهُاور بھٹکا دیا اس کو اللہ نے
    6. عَلٰي عِلْمٍعلم کے باوجود
    7. وَّخَتَمَاور مہر لگا دی
    8. عَلٰي سَمْعِهٖاس کے کان پر
    9. وَقَلْبِهٖاور اس کے دل پر
    10. وَجَعَلَاور اس نے ڈال دیا
    11. عَلٰي بَصَرِهٖاس کی آنکھ پر
    12. غِشٰوَةًایک پردہ
    13. فَمَنْ يَّهْدِيْهِتو کون ہدایت دے گا اس کو
    14. مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِاللہ کے بعد
    15. اَفَلَاکیا بھلا نہیں
    16. تَذَكَّرُوْنَتم نصیحٹ پکڑتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا دیکھا تم نے اس کو جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اس کو جس کو اللہ نے علم رکھتے ہوئے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر کردی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ! بھلا ایسوں کو کون ہدایت دے سکتا ہے بعد اس کے کہ اللہ نے ان کو گمراہ کردیا ہوا ! کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افرء یت من اتخذ الھہ ھویۃ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ ط فمن یھدیہ من بعد اللہ ط افلا تذکرون 23 ایک برمحل اشارہ یہود کی طرف اوپر کی آیت میں خاص طور پر مشرکین کے غلط تصور حیات پر ان کو ملامت تھی۔ اس آیت میں ان کی سرپرستی کرنے والے یہود کے بارے میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب کے مدعی ہوتے ہوئے مشرکین اور ان کے دین شرک کی حمایت جو کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بدعملیوں کی پاداش میں اللہ نے ان کے کانوں اور دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ تو جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے ہوں اب کس کے بس میں ہے کہ ان کو راہ راست لا سکے۔ افرء یت من اتخذالھہ ھوئہ، افریت کا اسلوب کسی کی حالت پر تعجب یا افسوس کے ساتھ توجہ دلانے کے لئے آتا ہے جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ذرا فلاں کو تو دیکھو یا بھلا تم نے فلاں کو بھی دیکھا ؟ یہود کی حالت پر تعجب کے ساتھ اس لئے توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتاب و شریعت سے نوازا لیکن انہوں نے کتاب و شریعت کو تو پیٹھ پیچھے پھینکا اور اپنی خواہشوں اور بدعات کو معبود بنا بیٹھے۔ آدمی جب خواہشوں کا اس طرح فرمانبردار بن جائے کہ خدا کے صریح احکام کی بھی پروا نہ کرے بلکہ خواہشوں ہی کے اندر اپنے لئے خیر و مصلحت سمجھنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کا بندہ نہیں بلکہ اپنی خواہشوں اور بدعتوں ہی کا بندہ ہے یہود کی اس اہوا پرستی کا ذکر تفصیل سے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ واضلہ اللہ علی علم، یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ ان کو علم کی روشنی ملی نہیں بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا اس کی قدر کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں اور بدعات ہی کی پیروی کی۔ اس ضلالت پسندی کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ نے ان کو گمراہی کے لئے چھوڑ دیا اوپر فرمایا ہے کہ ”واتینھم بینت من الامرا فما اختلفوآ الا من بعد ما جآء ھم العلم بغیا بینھم …(اور ہم نے انہیں شریعت الٰہی کے نہایت واضح احکام دیے تو انہوں نے علم آجانے کے بعد محض آپس کے عناد کے باعث اختلاف کیا) جو بات یہاں من بعد مآ جآء ھم العلم، کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات آیت زیر بحث میں علی علم، کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ لوگ روشنی پانے کے بعد اندھیرے میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیئے گئے ہیں تو ان سے اب کسی خیر کی امید نہ رکھو۔ دختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ بعینیہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت میں ان یہود ہی کے بارے میں گزر چکا ہے وہاں ہم ختم قلوب کی حقیقت پر وضاحت سے بحث کرچکے ہیں اس صفت کے ساتھ قرآن نے صرف یہود ہی کا ذکر کیا ہے۔ فمن یھدیہ من بعد اللہ ط افلاتذکرون من کے بعد ایک مصاف محدوف ہے یعنی من بعد ان اضلہ اللہ مطلب یہ ہے کہ جن کے دلوں پر سنت الٰہی کے تحت مہر ہوچکی ہو ان کو بھلا کون ہدایت دے سکتا ہے ! ہدایت وضلالت کے باب ہیں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں ختم قلوب کی بحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ افلاتذکرون یہ مسلمانوں کو نصیحت بلکہ ایک قسم کی تنبیہ ہے کہ تمہیں یہ حیرانی کیوں ہے کہ یہ پڑھے لکھے اور کتاب و شریعت کے مدعی لوگ قرآن کے دشمن اور مشرکین کے ساتھی بن کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو ہدایت بخشا ہے جو اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں جو لوگ اسکی قدر نہیں کرتے ان کے لئے وہ ہدایت ہی ضلالت کا پھندا بن جاتی ہے۔ یضل بہ کثیراً و یھدی بہ کثیراً کے تحت اس حقیت کی وضاحت ہوچکی ہے۔