Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 24

  1. وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ﴿24﴾

    1. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    2. مَا هِىَنہیں ہے یہ
    3. اِلَّا حَيَاتُنَامگر ہماری زندگی
    4. الدُّنْيَادنیا کی
    5. نَمُوْتُہم مریں گے
    6. وَنَحْيَااور ہم جئیں گے
    7. وَمَا يُهْلِكُنَآاور ہلاک کرتا ہم کو
    8. اِلَّا الدَّهْرُمگر زمانہ
    9. وَمَا لَهُمْاور نہیں ان کے لیے
    10. بِذٰلِكَاس کا
    11. مِنْ عِلْمٍکوئی علم
    12. اِنْ هُمْنہیں وہ
    13. اِلَّامگر
    14. يَظُنُّوْنَوہ گمان کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے۔ یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو بس گردش روزگار ہلاک کرتی ہے اور ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں ہے۔ محض اصل کے تیر تکے چلا رہے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے کا مضمون آیات 37-24 آگے منکرین قیامت کے اس احمقانہ مطالبہ پر تبصرہ ہے کہ جب ان کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ قیامت کا آنا برحق ہے تو ہمارے بزرگوں کو زندہ کر کے دکھا دو اس مطالبہ کی تردید کرتے ہوئے اس انجام کی تصویر کھینچی ہے جس سے قیامت کے منکرین کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ جس دن اس انجام سے سابقہ پیش آئے گا اس دن کوئی شریک و شفیع بھی خدا کی پکڑ سے بچانے والا نہیں ہوگا اس دن فوز عظیم صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو آخرت اور توحید پر ایمان رکھنے والے اور شرک و شفاعت پر اعتماد کرنے کے بجائے عمل صالح کی کمائی کرنے والے ہوں گے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وقالوا ما ھی الاحیاتنا الدنیا نموت و نحیا وما یھلکنا الا الدھو وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون 24 منکرین قیامت کا معارضہ اور اس کا جواب پیچھے آیات 22-21 میں قیامت کے اخلاقی، اور انفسی اور آفاقی دلائل کی طرف اشارہ گزر چکا ہے۔ اب یہ اس معارضہ کا حوالہ ہے جو ان واضح دلائل کے مقابل میں منکرین قیامت پیش کرتے تھے۔ فرمایا کہ جب ان کو قیامت کی یاد دہانی کی جاتی ہے تو بڑی رعونت کے ساتھ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہے۔ اس زندگی کے بعد نہ زندگی ہے نہ موت جو لوگ مرنے کے بعد پھر زندگی اور حساب کتاب کا ڈرا داستانے ہیں وہ محض ایک دھونس جماتے اور ایک دہم میں مبتلا ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ’ نموت ونحیا ‘ یعنی ہمارا مرنا اور جینا بس اسی دنیا تک محدود ہے۔ مر جانے کے بعد سارا قصہ تمام ہوجاتا ہے۔ وما یھلکثا الا الدھر اور یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ خدا ہمیں موت دیتا ہے اور ہمیں اکٹھا کر رہا ہے پھر ایک دن وہ ہمارا حساب کتاب کرنے بیٹھے گا اور ہمیں جزا یا سزا دے گا۔ خدا کو ان باتوں سے کیا تعلق ! بس گردش روزگار ہے جو ہمیں فنا کرتی ہے۔ جس طرح ایک درخت اگتا ہے، اپنی پختگی کو پہنچتا ہے اور ایک دن سوکھ کر فنا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی پیدا ہوتے ہیں، پھر گردش روزگار کے کسی تھپیڑے سے یا تو بچپن یا جوانی ہی میں فنا ہوجاتے ہیں یا بڑھاپے کو پہنچ کر مر جاتے ہیں۔ وما لھم بذا الک من علم ج ان ھم الایظنون یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ان خرافات پر تبصرہ ہے کہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کیبنیاد کسی علم پر نہیں ہے بلکہ محض اٹکل کے تیترکے چلائے جا رہے ہیں۔ ان کا جی قیامت کو ماننے کو نہیں چاہتا یہ چیز ان کی آزادی کو مقید اور ان کے عیش کو منفض کرتی ہے اس وجہ سے بالکل بےسوچے سمجھے یہ لا بالیانہ باتیں کرتے اور ایک ایسی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں جس کی شہادت انسان کی فطرت کے اندر ہے جس کی گواہی اس کائنات کا پورا نظام دے رہا ہے جو اس جہان کے خالق کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت اور اس کے عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ ظہور میں نہ آئے تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عرب میں دہریوں کا بھی ایک گروہ تھا جو خدا اور قیامت وغیرہ کا قطعی منکر تھا میرے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اشخاص و افراد کی بات اور ہے لیکن بحیثییت گروہ کے اس دور میں کوئی گروہ ایسا موجود نہیں تھا جو خدا اور آخرت کا مریح الفاظ میں منکر یا نرا مادہ پرست ہو۔ اہل عرب منکر نہیں بلکہ مشرک تھے اور اس شرک کے ذریعہ سے انہوں نے خدا کو دنیا کے نظام میں ایک عضو معطل بنائے رکھ دیا تھا۔ آخرت اور حیات بعد المحات کے معاملہ میں بھی وہ قطعی انکار کے نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے بلکہ تذبذب کے درجہ میں تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ مرنے کے بعد از سر نو اٹھنا اول تو بہت مت بعد بات ہے اور اگر اٹھنا ہی پڑا تو ہمارا معاملہ خدا سے نہیں بلکہ ہمارے دیوتائوں سے متعلق ہے۔ وہ ہمیں وہاں بھی اونچے سے اونچے درجے دلائیں گے اور اگر خدا نے کوئی گرفت کی تو وہ اپنے زور واثر سے ہمیں اس کی گرفت سے بچا لیں گے۔ ان کا یہ قول کہ ہمیں گردش روزگار ہلاک کرتی ہے انکار خدا کے معنی میں نہیں تھا بلکہ اس سے وہ قرآن کے اس فلسفہ تاریخ کی نفی کرنا چاہتے تھے جو قرآن نے نہایت تفصیل کے ساتھ قریش کو سنایا تھا کہ پچھلی قومیں اپنے عقائد و اعمال کے فساد اور رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں۔ اگر تم بھی انہی کی روش اختیار کرو گے تو انہی کے انجام سے دوچار ہو گے یہ انداز چونکہ بالکل مبنی برحقیقت تھا اس وجہ سے وہ لوگ اس سے متاثر ہوئے جن کے اندر کچھ عاقبت اندیشی تھی۔ ان کے اندر یہ ڈرپیدا ہوا کہ قرآن کی یہ بات صحیح ہے اور اگر ہم نے بھی عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون کی طرح اس دعوت حق کو جھٹلایا اور اپنے عقائد و احمال کی اصلاح نہ کی تو مبادا اسی طرح کے کسی عذاب کی زد میں آجائیں جس سے قرآن ڈرا رہا ہے اس طرح کے لوگوں کو اپنی روش پر مطمئن رکھنے کے لئے قریش کے لیڈروں نے یہ فلسفہ تراشا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ پچھلی قومیں اپنے عقائد و اعمال کے فساد اور رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں خدا کے عذاب سے تباہ ہوئیں۔ خدا کو ان باتوں سے کیا تعلق ہم ہلاک ہوتے ہیں تو گردش روزگار سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ایک شخص پیدا ہوتا ہے جوان ہوتا ہے، پھر بوڑھا ہو کر ایک دن مر جاتا ہے اور اس کے اس مرجانے کا کوئی تعلق بھی اس کے عقائد و اعمال سے نہیں بلکہ تمام تر گردش روزگار سے ہوتا ہے اسی طرح تو میں بھی وجود میں آتی ہیں، ترقی کوئی ہیں، تہذیب و تمدن کی بانی بنتی ہیں، فتح و تسخیر کے جال بچھاتی ہیں اور ایک دن اپنی طاقتیں اور صلاحیتیں نچوڑ کر گردش روزگار کی نذر ہوجاتی ہیں۔ اس دنیا کے اسٹیج پر یہ تماشا برابر ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا یہ گردش روزگار کے کرشمے ہیں جو لوگ اس چیز کو عقائد و اعمال سے باندھتے ہیں وہ بالکل وہمی اور لوگوں کو خواہ نخواہ ایک وہم میں مبتلا ہوجایا کرو کہ یہ چیز تمہارے اعمال یا عقائد کے فساد کے نتیجہ میں تم پر خدا نے نازل کی ہے۔ اس طرح کے سخت اور نرم دن ہمارے اگلوں پر بھی آئے حالانکہ تم جانتے ہو کہ وہ بڑے ہی پاکیزہ اعمال و عقائد والے لوگ تھے۔ قدمن ابآئنا السوآء و الصرآء کے تحت ان کے اس فلسفہ کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ خیال نہ فرمایئے کہ یہ جاہلی فلسفہ اب نابود ہوچکا ہے۔ اس زمانے میں بھی ذہنوں پر یہی فاسد فلسفہ مسلط ہے اور ان لوگوں کے ذہنوں پر مسلط ہے جو قرآن کے حامل اور اسلام پر عامل ہونے کے مدعی ہیں۔ ان کو بھی اگر توجہ دلائیے کہ فلاں فلاں آفتیں جو آئیں یا آرہی ہیں یہ سب ہمارے ایمانی و اخلاقی فساد کا نتیجہ ہیں اگر یہ فساد باقی رہا تو ڈر ہے کہ کہیں یہ بیڑا ہی غرق نہ ہوجائے تو اس سے ان کا پندار ایمان و اسلام مجروح ہوتا ہے اور وہ بڑے دانش فروشانہ انداز میں جواب دیتے ہیں کہ اس طرح کی گردشیں تو قوموں پر آیا ہی کرتی ہیں ہمارے اگلوں پر بھی آچکی ہیں پھر یہ کیوں سمجھا جائے کہ یہ ہمارے کسی فساد کا نتیجہ ہیں ! وما لھم بذلک من علم ج ان ھم الا یظنون یعنی یہ بات یہ لوگ کہتے تو ہیں بڑے ادعاء و طنطنہ کے ساتھ لیکن اس باب میں ان کو کوئی علم نہیں ہے بلکہ محض ظن و گمان ہے جس پر اس فلسفہ کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ عقل و فرت، آفاق وانفس اور انبیاء و حکما کی تعلیم تو رہی ہے جو قرآن پیش کر رہا ہے لیکن یہ لوگ علم کی جگہ اپنے گمان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ ان کی ہر خاہش کے جواز کی سند علم نہیں بلکہ ان کا گمان ہی دے سکتا ہے یہ اسلوب کلام اظہار حسرت کا ہے کہ بڑے ہی بدقسمت ہیں یہ لوگ جنہوں نے ایسے عظیم معاملہ میں علم کی جگہ اپنے خیال و گمان کو اپنا رہنما بنایا ہے۔