Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 25

  1. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾

    1. وَاِذَا تُتْلٰىاور جب پڑھی جاتی ہیں
    2. عَلَيْهِمْان پر
    3. اٰيٰتُنَاہماری آیات ۔ نشانیاں
    4. بَيِّنٰتٍروشن
    5. مَّا كَانَنہیں ہوتی
    6. حُجَّتَهُمْان کی حجت
    7. اِلَّآمگر
    8. اَنْ قَالُوایہ کہ وہ کہتے ہیں
    9. ائْتُوْالاؤ
    10. بِاٰبَآئِنَآہمارے باپ دادا کو
    11. اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
    12. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو ہماری نہایت واضح آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کا یہ قول ہی ان کی واحد حجت ہوتا ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان حجتھم الا ان قالوا ائنوا بابآئنا ان کنتم صدقین 25 قرآن کے دلائل کے مقابل میں کفار کی واحد ڈھال یہ ان کے اس گمان کی وضاحت ہے جس کو انہوں نے قرآن کے واضح دلائل کے مقابل میں اپنا رہنما بنایا۔ فرمایا کہ جب قیامت کے باب میں ان کو ہماری نہایت واضح ایٓتیں سنائی جاتی ہیں تو واحد چیز جس کو وہ ان کی تردید میں اپنی حجت بناتے ہیں وہ پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ان کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو جو وفات پا چکے ہیں، زندہ کر کے لائو۔ حجتھم کان کی خبر ہے یہی مضمون سورة عنکبوت میں بھی ذرا مختلف الفاظ میں آیا ہے فما کان جواب قومہ الا آن قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت میں الصدقین 29 (ان کی قوم کا جواب صرف ان کا یہ قول ہوا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لا دکھائو حجت سے مراد ان کا جواب ہی ہے لیکن اپنے زعم میں وہ اس کو ایک قاطع حجت خیال کرتے تھے اس وجہ سے بطور طنز قرآن نے اس کو حجت سے تعبیر فرمایا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اتنے بڑے مسئلہ میں اگر انہوں نے سہارا لیا تو ایک ایسے جواب کا سہارا لیا جس کو نہ اصل بحث سے کوئی دور یا قریب کا واسطہ ہے اور نہ عقل و منطق سے اس کا کوئی تعلق ہے بلکہ یہ محض ان کا ایک بےبنیاد یال ہے لیکن یہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ قرآن جس چیز سے ڈرا رہا ہے اس سے ان کی جان چھوٹ گئی۔