Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 26

  1. قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿26﴾

    1. قُلِ اللّٰهُکہہ دیجئے اللہ
    2. يُحْيِيْكُمْزندہ کرتا ہے تم کو
    3. ثُمَّ يُمِيْتُكُمْپھر موت دے گا تم کو
    4. ثُمَّ يَجْمَعُكُمْپھر جمع کرے گا تم کو
    5. اِلٰى يَوْمِدن تک
    6. الْقِيٰمَةِقیامت کے
    7. لَا رَيْبَ فِيْهِنہیں کوئی شک اس میں
    8. وَلٰكِنَّلیکن
    9. اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
    10. لَا يَعْلَمُوْنَعلم نہیں رکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے ہمارے پاس لائو۔ ان کو بتا دو کہ اللہ ہی تم کو زندہ کرتا ہے پھر تم کو مارتا ہے پھر وہ تم کو روز قیامت تک جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے تم کو جمع کیر گا لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل اللہ یعجیکم ثم یمتکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ ولکن اکثر الناس لایعلمون 26 قرآن کا جواب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اصل دعوے کی از سر نو یاد دہانی کرائی گئی اور ایسے اسلوب میں کرائی گئی ہے کہ دعوے کی دلیل خود بخود واضح ہوگئی ہے۔ فرمایا کہ تم سے یہ نہیں کہ اجا رہا ہے کہ آج جس کو کہو اس کو زندہ کر کے دکھا دیا جائے بلکہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہی تم کو موت بھی دیتا ہے پھر وہ تم کو جمع کرے گا اور یہ جمع کرنا قیامت کے دن تک جاری رہے گا اور قیامت کے آنے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یعنی جب زندگی اور موت خدا ہی کے اختیار میں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو یہ سوال تو خارج از بحث ہوا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ آخر جس نے زندہ کیا ہے وہ دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا ؟ اور جب اپنے پیدا کئے ہوئے کو موت بھی اسی نے دی ہے کسی اور نے نہیں دی ہے تو وہ اگر اس کو دوبارہ پیدا کرنا چاہئے تو اس کے اس ارادے میں کس کی طاقت ہے کہ مزاحم ہو سکے ! مزاحمت تو جب ہو سکتی کہ زندگی پر کسی کا اختیار ہوتا اور موت پر کسی اور کا لیکن ناقابل تردید دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ اس قسم کی ثنویت سے یہ کارخانہ کائنات بالکل پاک ہے یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کے اوپر ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔ ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ یہ زندگی اور موت کے لازمی تقاضے کا بیان ہے کہ اس کے بعد اگر حساب کتاب اور جزا و سزا کا کوئی دن نہ آئے تو یہ سارا کارخانہ بالکل عبث اور بےمقصد ہو کے رہ جاتا ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے اور یہ جمع کرنا اس قیامت کے دن تک جاری رہے گا جس کا آنا اس زندگی اور موت کے بامقصد ہونے کے لئے ناگزیر اور جس کے آنے میں کسی پہلو سے کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یجمعکم کے بعد الی کا صلہ اتصال اور تسلسل کو ظاہر کر رہا ہے یعنی یہ جمع کرنا قیامت تک جاری رہے گا جس سے یہ بات بھی نکلی کہ مرنے والوں میں سے قیامت سے پہلے نہ کوئی اٹھے گا اور نہ کسی کے اٹھائے جانے کا قرآن یا پیغمبر کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے اس وجہ سے جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھا دیا جائے ان کا مطالبہ بےمعنی ہے۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون یہ منکرین قیامت کے حال پر اظہار حیرت ہے کہ جس چیز سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس میں کسی شک کی گنجائش تو نہیں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے یعنی اس بات کو نہیں جانتے کہ اس واضح حقیقت کا انکار کر کے اپنے لئے کس ہولناک انجام کا دروازہ کھول رہے ہیں۔