Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 3

  1. اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ﴿3﴾

    1. اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِبیشک آسمانوں میں
    2. وَالْاَرْضِاور زمین میں
    3. لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَالبتہ نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان فی السموت والارض لایت للمومنین (3) قرآن کی دعوت یہ قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز قیامت کے حق میں آفاق کے دلائل کی طرف اشارہ ہے تاکہ اس کا حکیمانہ کلام ہونا واضح ہو۔ فرمایا کہ قرآن لوگوں کو جس چیز کی طرف بلا رہا ہے اور جس چیز سے کرا رہا ہے اس کی نشانیاں آسمانوں اور زمین کے چپہ چپہ میں موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں کارآمد ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہوں۔ جو لوگ ایمان لانے والے نہ ہوں وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں اور روز نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نئی نشانی دکھا بھی دی جائے تو اس سے بھی وہ قائل نہیں ہوتے بلکہ کسی دوسری نشانی کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ اصل چیز انسان کا ارادہ ہے۔ اگر اس کے اندر حقیقت کی جستجو اور منزل کی طلب ہو تو خالق کائنات نے منزل مقصود کی نشان دہی ہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ آسمانوں میں بھی جگہ جگہ سگنل اشارے دے رہے ہیں اور زمین بھی قدم قدم پر رستہ دکھا رہی ہے لیکن جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیچھے بھٹکنا چاہتے ہیں ان کو نہ آسمان کے سگنل نظر آتے اور نہ زمین کے نشانات، وہ ہمیشہ آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں اور اسی آوارہ گردی میں ان کی زندگیاں گزر جاتی ہیں۔