Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 4

  1. وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ﴿4﴾

    1. وَفِيْ خَلْقِكُمْاور تمہاری پیدائش میں
    2. وَمَا يَبُثُّاور جو پھیلا رہا ہے
    3. مِنْ دَآبَّةٍجانوروں میں سے
    4. اٰيٰتٌنشانیاں ہیں
    5. لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح خود تمہاری خلقت اور حیوانات کے اندر بھی، جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین کرنا چاہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مرنی خلقکم ومایبث ومن دآبۃ ایت تقوم یوقنون (4) انسان کی خلقت کے اندر جو نشایاں ہیں ان کی طرف اشارہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں کی طرف ایک جامع اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کی خلقت اور اس کی پرورش کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں جو اہتمام فرمایا ہے اس کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر اپنی ہی خلقت کے تمام اطوار و مراحل پر غور کرے تو اس پر خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے وہ حقائق واضح ہوں گے کہ اس کے لئے نہ خالق کی توحید میں کسی شبہ کی گنجائش باقی رہے گی نہ امکان معاد میں اور نہ جزاء و سزا کے لازمی ہونے میں جس خالق نے انسان کو مٹی سے اور پھر پانی کی ایک بوند سے ایسی اعلیٰ صورت بخش دی اس کے لئے اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں مشکل ہوجائے گا ؟ جس پروردگار نے انسان کی پیدئاش کے بالکل ابتدائی مرحلہ سے لے کر اس کے آخری مرحلہ تک پرورش کا یہ انتظام فرمایا آخر وہ اس کو بالکل غیر مسئول کس طرح چھوڑ دے گا۔ جو انسان اتنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آیا ہے آخر اس کی صلاحیتوں کے اب میں اس سے پرسش کیوں نہیں ہوگی ؟ پھر یہ کہ جس انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے تمام اضداد اور تمام اجزائے مختلفہ کو سازگار بنایا آخر اس کی کیا شامت آئی ہوئی ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی دوسری چیز کو شریک کرے ؟ سامان پرورش کی نشانیوں کی طرف اشارہ وما یبث من دآبۃ میں اشارہ اس سامان ربوبیت کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کی شکل میں انسان کے لئے مہیا فرمایا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اس امر میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان چوپایوں سے جو گوناگوں فوائد حاصل کر رہا ہے یہ اس کو محض اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں حاصل ہو رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہی فوائد کے لئے ان چیزوں کو وجود بخشا او ہر اعتبار سے ان کو ان کے فوائد کے لئے موزوں بنایا ہے۔ انسان کو سواری اور باربرداری کا محتاج بنایا تو سواری اور باربرداری کے لئے نہایت موزوں جانور پیدا کئے، اس کو دودھ اور گوشت اور کھال اور اون کا ضرورتمند بنایا تو ان تمام ضروریات کے لئے الگ الگ نہایت مناسب چوپائے عطا کئے۔ یہ چیز اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت مہربان ہے اور اس کی شکر گزاری واجب ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ جب اس نے انسان کو اس اہتمام کے ساتھ اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس دن وہ ان نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے، جنہوں نے ان کا حق پہچانا ہو ان کو انعام دے اور جو ان کو پا کر خدا کو بھول بیٹھے ہوں ان کو اس کفران نعمت کی سزا دے۔ ایمان لانے کے لئے اصلی چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایمان کا ارادہ پایا جاتا ہو لقوم یوقنون، میں فعل یوقنون ارادہ فعل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی مذکورہ چیزوں کے اندر توحید و معاد اور جزاء و سزا کی دللیں تو بیشمار ہیں لیکن مجرد دلیلوں کا وجود اس کے لئے نافع نہیں ہے جس کے اندر دلیلوں کو قبول کرنے کا ارادہ نہ پایا جاتا ہو جو شخص کسی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتا وہ بدیہی سے بدیہی حقیقت کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ شکوک ایجاد کر ہی لیتا ہے۔