تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 5
وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿5﴾
- وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِاور رات اور دن کے اختلاف میں
- وَمَآاور جو
- اَنْزَلَ اللّٰهُنازل کیا اللہ نے
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مِنْ رِّزْقٍرزق میں سے
- فَاَحْيَاپھر اس نے زندہ کیا
- بِهِ الْاَرْضَساتھ اس کے زمین کو
- بَعْدَ مَوْتِهَااس کی موت کے بعد
- وَتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِاور ہواؤں کی گردش میں
- اٰيٰتٌنشانیاں ہیں
- لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَاس قوم کے لیے جو عقل رکھتی ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رات اور دن کی آمد و شد میں اور اس ذریعہ رزق میں جو اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مرجانے کے بعد، اور ہوائوں کی گردش میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واختلافا لیل و الھار و ما انزل اللہ من السمآء من رزق فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریح ایت تقوم یعقلون (5)
اختلاف کے معنی یہاں یکے بعد دیگرے رات اور دن کی آمد و شد کے ہیں۔ ساتھ ہی یہ لفظ اس اختلاف مزاج کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ کر رہا ہے جو رات اور دن کے اندر پایا جاتا ہے اور جو اس کائنات کی نشو و نما اور اس کی بہبود و بقا کے لئے ضروری ہے۔ من رزق سے مراد یہاں پانی ہے جو ذریعہ رزق بنتا ہے۔ گویا مسبب سبب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ الفاظ کا یہ طریقہ استعمال عربی بلکہ کم و بیش ہر زبان میں معروف ہے۔
رات اور ان کی آمد و شد کے اشارات
اختلاف لیل و نہار کی دلیل قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہوئی ہے کہ باوجودیکہ ان دونوں کے اندر نسبت ضدین کی ہے، ایک خشک ہے دوسرا گرم، ایک پرسکون ہے دوسرا پر شور، ایک تاریک ہے دوسرا روشن، تاہم ان کے اندر انسان کی پرورش کے لئے زوجین کی سی سازگاری اور موافقت پائی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ دونوں ایک ہی خدا کے بنائے ہوئے اور اسی کے حکم سے برابر، پوری پابندی وقت کے ساتھ، اپنے مفوضہ فرائض کی بجا آوری میں سرگرم ہیں۔ اگر یہ الگ الگ خدائوں کی ایجاد ہوتے تو ان کے اندر جو سازگاری پائی جاتی ہے اس کا وجود میں آنا ناممکن تھا اور اگر یہ سازگاری وجود میں نہ آتی تو اس کرہ زمین کے باشندوں کے لئے زندگی ناممکن ہوجاتی۔
بارش کی نشانیاں
یہی حال بارش کا ہے کہ وہ ہوتی تو آسمان سے ہے لیکن زندگی زمین اور اہل زمین کو بخشتی ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ایک ہی ارادہ کار فرما ہے۔ اگر آسمان کے دیوتا الگ اور زمین کے دیوتا الگ ہوتے تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لئے غذا کا ذخیرہ اتارتے ! پھر یہ بات بھی ہر موسم میں، ہر خاص و عام کے مشاہدہ میں آتی ہے کہ زمین بالکل خشک اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی کہ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی دیکھتے دیکھتے زمین کا ہر گوشہ لہلہا اٹھتا ہے۔ تو جس خدا کی یہ شانیں ہر موسم میں ہم دیکھتے ہیں اگر وہ اس دنیا کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے تو کیا یہ کام اس کے لئے مشکل ہوجائے گا ؟
ہوائوں کی گردش کی نشانیاں
وتصریف الریح، یعنی ہوائوں کی گردش میں بھی خدا کی قدرت، رحمت، ربوبیت اور اس کی نقمت کی نشانیاں موجود ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مصرف کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے اور وہی اپنی حکمتوں کے تحت ان کو اسعتمال کرتا ہے۔ اگر وہ ان کو روک دے تو چشم زدن میں ساری دنیا تباہ ہوجائے۔ وہ چاہے تو ایک قوم کے لئے اس کو رحمت بنا دے اور دوسری قوم کے لئے نقمت، اسی ہوا کی گردش سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات بخشی اور اسی کی گردش سے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا۔ آئے دن یہ بات مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ کسان اپنی فصل کے مستقبل سے نہایت مطمئن ہوتے ہیں لیکن دفعتہ کوئی ایسی ہوا چل جاتی ہے کہ مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ ملاح اپنی کشتیوں کے بادبان کھولے ہوئے اور کسان اپنی گندم صاف کرنے کے آلات لئے ہوئے سازگار ہوا کے انتظار میں چشم براہ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں کہ سازگار ہوا چلا دے۔ اس زمانے میں سائنس کی بدولت اگرچہ انسان کے اندر یہ زعم پیدا ہوگیا ہے کہ اس نے ابرو ہوا کو بہت بڑی حد تک اپنے قابو میں کرلیا ہے لیکن قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دیتی ہے تو اس ادعا کا سارا بھرم کھل جاتا ہے۔ یہ باتیں اس بات کی صاف شہادت ہیں کہ ایک ہی ذات ہے جو اس کائنات کے تمام عناصر پر حکمران ہے۔ اس کے اذن کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔
ایت تقوم یعقلون یعنی نشانیاں تو قدم قدم پر توحید اور معاد کی موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں نظر ان لوگوں کو آتی ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے یا کام لیتے ہیں تو بس اسی حد تک جس حد تک وہ ان کی مادی ضروریات کی تکمیل میں ان کا ہاتھ بٹا سکے، وہ لوگ ان انشانیوں کے اصی جمال کے مشاہدہ سے محروم ہی رہتے ہیں۔
یہاں قرآن نے ان نشانیوں کی طرف اجمالی اشارات کئے ہیں اس وجہ سے ہم بھی اجمالی اشارات ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلی سورتوں میں یہ باتیں تفصیل سے گزر چکی ہیں اور ہم بھی ان کی وضاحت پوری تفصیل سے کرچکے ہیں۔
نشانیاں ان کے لئے کار آمد ہیں جو ان سے فائدہ اٹھائیں
اوپر کی تینوں آیات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اہل ایمان کے لئے تو اس کائنات کا گوشہ گوشہ توحید معاد کی نشانیوں سے معمور ہے نہ رہے دوسرے تو ان سے بھی یہ نشانیاں مخفی نہیں ہیں بشرطیکہ ان کے اندر ماننے اور یقین کرنے کا حوصلہ اور اپنی عقل سے صحیح کام لینے کا دم داعیہ ہو۔ جو لوگ ایک حقیقت کو، خواہ وہ کتنی ہی واضح ہو، ماننا ہی نہیں چاہتے یا اپنی عقل سے وہ اصل کام لیتے ہی نہیں جس کے لئے وہ فی الحقیقت خلق ہوئی ہے، ایسے لوگوں کے اندھے پن کا کوئی علاج نہیں ہے۔