تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 9
وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ﴿9﴾
- وَاِذَااور جب
- عَلِمَوہ جان لیتا ہے
- مِنْ اٰيٰتِنَاہماری آیات میں سے
- شَيْئَۨاکوئی چیز
- اتَّخَذَهَابنالیتا ہے اس کو
- هُزُوًامذاق
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- لَهُمْان کے لیے
- عَذَابٌ مُّهِيْنٌعذاب ہے رسوا کرنے والا۔ ذلیل کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب اس کو ہماری آیات میں سے کسی بات کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا علم من ایتنا شیاء اتخذھا ھزوا ط اولئک لھم عذاب مھین (9)
حق کی مخالفت کا عامیانہ حربہ
اوپر کی آیت میں متکبرین کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے۔ جب ہی ﷺ بذات خود ان کو قرآن سنانے کی کوشش فرماتے۔ اب ان کا وہ رویہ بیان ہو رہا ہے جو اس وقت وہ اختیار کرتے جب قرآن کی کوئی بات ان کو کسی اور واسطہ سے پہنچتی۔ فرمایا کہ ان کو ہماری آیات میں سے کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوسرے ان سے متاثر نہ ہونے پائیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن کے زمانہ نزول میں قریش کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو غیر جاندبارانہ ذہن کے ساتھ قرآن کو آیتیں سنتے اور ان سے وہ متاثر بھی ہتے۔ اس طرح کے لوگ ان آیتوں کو اپنے سرداروں کے علم میں بھی لانے کی کوشش کرتے تاکہ ان کے باب میں ان کی رائے معلوم کریں۔ ان کے سردار فوراً تاڑ جاتے کہ لوگ ان آیات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر سے لوگوں کو بچانے کے لئے وہ یہ تو کر نہیں سکتے تھے کہ دلیل سے قائل کردیں کہ قرآن کی بات میں فلاں چیز عقل یا فطرت یا حقیقت کے خلاف ہے۔ واحد تدبیر جو وہ کرسکتے تھے وہ یہی تھی کہ قرآن کی بات کا مذاق اڑائیں تاکہ اس طرح بات ہوا میں اڑ جائے اور کسی پر اس کا کوئی اثر نہ ہونے پائے۔ اس قسم کی عامیانہ حرکتا گرچہ کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی تاہم وقتی طور پر کمزور رائے کے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ حربہ ہر دور کے شیاطین نے حق کے خلاف استعمال کیا ہے۔
سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی ہو
اولئک لھم عذاب مھین ان لوگوں کے اس رویہ کا اصل محرک، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہوا، استکبار تھا اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لیل ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ انہوں نے حق کے مقابل میں گھمنڈ کیا اس وجہ سے ان کے لئے آخرت میں رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اگرچہ اللہ کا ہر عذاب پناہ مانگنے کی چیز ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی بھی ہو۔ یہ عذاب متکبرین کے لئے خاص ہے۔