تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 10
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿10﴾
- قُلْفرمادیں
- اَرَءَيْتُمْبھلا تم دیکھو تو
- اِنْ كَانَاگر ہے
- مِنْ عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس سے
- وَكَفَرْتُمْاور تم نے انکار کیا
- بِهٖاسکا
- وَشَهِدَاور گواہی دی
- شَاهِدٌایک گواہ
- مِّنْۢسے
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
- عَلٰي مِثْلِهٖاس جیسی (ایک کتاب) پر
- فَاٰمَنَپھر وہ ایمان لے آیا
- وَاسْتَكْبَرْتُمْ ۭاور تم نے تکبر کیا
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَا يَهْدِيہدایت نہیں دیتا
- الْقَوْمَلوگ
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے پوچھو کہ اس وقت کیا ہوگا اگر یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد نے اس کے مانند کتاب کی گواہی بھی دی ہے سو وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا ! بیشک اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرتا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ارء یتم ان کان من عند اللہ و کفر تم بہ وشھد شاھد من بنی آسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ط ان اللہ لایھدی القوم الظلمین 10
یہاں جواب شرط محذوف ہے اور یہ حذف اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جواب شرط ایسے خوفناک نتائج پر متضمن ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کتاب کا انکار اور اس کو خدا کے اوپر میرا افتراء قرار دے رہے ہو لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہوئی تب کیا بنیگا ! ! ساتھ ہی یہ بات بھی تمہارے سوچ لینے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد اس طرح کی چیز کو گواہی دے چکا ہے، وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم استکبار کی بنا پر اس سے اعراض کئے جا رہے ہو !
شاہد سے کون مراد ہے ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاہد سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ اس سوال کے تین جواب ہمارے مفسرین نے دیئے ہیں۔
عام رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں لیکن ایک دوسرے گروہ نے اس پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ عبداللہ بن سلام اس سورة کے نزول کے بہت بعد مدینہ میں اسلام لائے تو اس مکی سورة میں ان کے اسلام سے پہلے ہی ان کی گواہی کے حوالہ دینے کے کیا معنی، جب کہ کوئی ادنیٰ قرینہ بھی یہاں اس بات کا نہیں ہے کہ کم از کم اس آیت ہی کو مدنی قرار دیا جاسکے۔
دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے اشارہ حضرت حضرت موسیٰ ؑ کی طرف ہے لیکن یہ قول بھی کچھ وزنی نہیں ہے۔ آگے حضرت موسیٰ ؑ اور تورات کا ذکر قرآن کے حق میں ان کی شہادت ہی کا حوالہ دینے کے لئے مستقلاً ، نام کی تصریح کے ساتھ آ رہا ہے تو یہاں اشارے کی صورت میں ان کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے ؟
ایک تیسرے گروہ نے اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لے کر اس سے ان عام لوگوں کی شہادت مراد لی ہے جو بنی اسرائیل میں سے قرآن پر ایمان لائے۔ اس گروہ میں ابن کثیر بھی شامل ہیں لیکن یہ قول بالکل ہی بےبنیاد ہے۔ اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لینا قواعد زبان کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن ہم اس غیر ضروری بحث میں یہاں پڑنا نہیں چاہتے۔ اسلوب کلام یہاں خود شاہد ہے کہ نکرہ تضخیم شان کے لئے ہے نہ کہ حقیر و تعمیم کے لئے اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ اشارہ کسی ایسے شاہد کی طرف ہو جس کی شخصیت اور شہادت دونوں کا مرتبہ ایسا ہو کہ اس کو بطور ایک دلیل کے پیش کیا جاسکے۔
ہمارے نزدیک یہ اشارہ سیدنا مسیح ؑ کی طرف ہے۔ اس کے وجوہ مندرجہ ذیل ہیں۔
-1 پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ میں آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں آپ کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری نبی بھی ہیں اور آخری رسول بھی اس وجہ سے اس آنے والے سے آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ انجیلوں کا مطالعہ کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ جس طرح حضرت مسیح ؑ کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو حضرت مسیح کی بشارت دینے کے لئے مبعوث فرمایا اسی طرح حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت سے پہلے حضرت مسیح ؑ کو مبعوث فرمایا کہ وہ آنے والے کی راہ صاف کریں۔ انجیلوں میں اصل مضمون جو گوناگوں اسلوبوں سے سامنے آتا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی بشارت ہی ہے۔ استاذ امام نے خاص اس موضوع پر انگریزی میں ایک رسالہ لکھا ہے کہ انجیلوں کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے جس آسمانی بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کی جو تمثلیں بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر آنحضرت ﷺ اور قرآن کی دعوت ہی پر منطبق ہوتی ہیں۔
-2 دوسری اہم چیز یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بشارت اگرچہ تو رات اور زبور وغیرہ میں بھی ہے جن کے حوالے ہم پچھلی سورتوں میں نقل کر آئے ہیں لیکن حضرت مسیح ؑ نے نام کی تصریح کے ساتھ آپ کی بشارت دی ہے۔ سورة صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے۔
واذقال عیسیٰ ابن مریم یبنی آسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لمبا بین یدی من التورتہ و مبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد ط فکما جآء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین (الصف 6)
اور یاد کرو جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کی جانب سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں، مصداق بن کر ان پیشین گوئیوں کا جو میرے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور خوش خبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پس جب وہ کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
قرآن نے اس آیت میں جس بشارت کا حوالہ دیا ہے وہ انجیلوں میں موجود ہے۔ بعض انجیلوں میں ت آنحضرت ﷺ کے نام نامی کی تصریح بھی بار بار وارد ہوئی۔ مثلاً برناباس کی انجیل میں …عیسائی اسی وجہ سے اس انجیل کو مستند نہیں مانتے لیکن اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا، دوسری انجیلوں میں بھی آپ کا حوالہ موجود ہے۔ اگرچہ نام غائب کر کے صرف صفات کا حوالہ باقی رہنے دیا گیا ہے اور ترجموں کے ذریعہ سے ان صفات کو بھی مسخ و محرف کرن کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جو شخص ایمان داری کے ساتھ ان پر غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی دورسا ان کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة صف کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم مفصل بحث کریں گے۔
-3 تیسری چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی پشین گوئیوں میں قرآن، قرآن کی دعوت، اس دعوت کے مزاج، دنیا پر اس دعوت کے غلبہ اور اس غلبہ کے مراحل و مدارج کا نہایت صاف الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ سورة اعراب کی تفسیر میں ہم بعض چیزوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ آگے سورة فتح کی آیت 29 کے تحت بھی ہم اس مسئلہ پر بحث کرنے والے ہیں۔ قارئین کے اطمینان کے لئے بعض حوالے یہاں بھی ہم نقل کرتے ہیں۔
”یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے دو کیا وہی کرنے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے ؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ متی : باب 21، 44-41
”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ یوحنا : باب 14:17
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا مچھ نہیں۔ یوحنا : باب 14، 31
اسلامی دعوت کے تدریجی فروغ کی طرف بھی متعدد تمثیلوں میں اشارے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تمثیل جس کی طرف سوروہ فتح میں قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے، یہ ہے۔
”اس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب تر کاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے ا کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“ متی : باب 13:32-31
-4 چوتھی اہم چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس واضح شہادت کا یہ اثر تھا کہ عیسائیوں میں سے جو لوگ اصل نصرانیت پر اقئم رہے، یعنی ان کے خلیفہ صادق شمعون کے پیرو، وہ قرآن کے نزول کے بعد بڑے جوش و خروش سے اس پر ایمان لائے اور قرآن نے نہایت شاندار الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے۔ سورة مائدہ میں اسی گروہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔
لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا لیھودو الذین اشرکوا ولتجدن اتربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری ذلک بان منھم قسیسین ودھباتا وانھم لایستکبرون واذا اسمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوامن الحق یقولون ربنا امتا فاکتبنا مع الشھدین (المآئدۃ :83-82)
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے اور اہل ایمان کی محبت میں سب سے قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں علماء اور راہب ہیں اور وہ تکبر کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ لوگ جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو حقکو پہچان لینے کے سبب سے تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ہم ایمان لائے تو ہم کو تو حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ۔
تدبر قرآن میں ان آیات کی تفسیر غور سے پڑھ لیجیے۔ نصاریٰ کی تاریخ سے لوگ اچھی طرح واقف نہیں ہیں اس وجہ سے ان آیات کا صحیح مفہوم ان پر واضح نہیں ہوسکا۔ یہ پال کے پیروئوں کی تعریف نہیں ہے بلکہ شمعون کے پیروئوں کی ہے۔ پال کئے سرو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے بھی نہیں۔ وہ اس لفظ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انہوں نے اپنے لئے مسیحی کا لفظ اختیار کیا ہے۔ شمعون کے پیرو بیشک اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے تھے۔ یہ لوگ اس شہادت کے حامل رہے۔ جو سید سیدنا مسیح ؑ نے آخری رسول کی بعثت کے باب میں دی تھی اور جب وقت آیا تو انہوں نے پورے جوش و خروش اور نہایت سچے جذبہ ایمانی کے ساتھ اس کی شہادت دی۔ اسی چیز کی طرف ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں یہ لوگ اس تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے جن میں پال اور اس کے پیرو مبتلا ہوئے اس وجہ سے اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوئے۔ انہی لوگوں کے باب میں حضرت مسیح ؑ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ”مبارک ہیں دے جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔“ اوپر سورة مائدہ کی آیت میں ”وانھم لایستکبرون، کے الفاظ سے ان کے اسی وصف کی طرف اشارہ فرما گیا ہے۔
اسی تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شہادت کی نوعیت ایک عام شہادت سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی بعثت ہی خاص اس مقصد سے ہوئی تھی کہ وہ آپ ﷺ کی راہ صاف کریں اور خلق کو اس آسمانی بادشاہی دیں جس کا آپ ﷺ کے ذریعہ سے ظہور ہونے والا تھا۔ اس حوالہ سے قرآن نے مشرکین پر بھی حجت قائم کی ہے اور اہل کتاب پر بھی ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں قریش کو اہل کتاب کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگئی تھی اس وجہ سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ قرآن نے یہاں یہی دکھایا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے جنوں میں آج یہودی اور مسیحی جو حرکتیں چاہیں کریں لیکن بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد اس حق کی نہایت آشکارا الفاظ میں شہادت دے چکا اور اس پر ایمان لا چکا ہے۔ اس کے ایمان اور اس کی شہادت کے بعد جو لوگ محض استکبار کی بنا پر اس حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔
ان اللہ لایھدی القوم نلظلمین یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ یاب نہیں کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور اس کی بخشی ہوئی روشنی کی ناقدری کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس نے عقل کی رہنمائی اور آفاق وانفس کی گواہی کے ساتھ ساتھ اپنے نبیوں اور رسولوں کی شہادت کے ذریعہ سے بھی حق کو بالکل آشکارا کردیا۔ اب جو لوگ ان ساری چیزوں کو ہدایت کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو اپنی ضلالت کا ذریعہ بنان کی کوشش کریں ایسے لوگوں کو ہدایت کی راہپر لاکھڑا کرنا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو وہ بھٹکنے ہی کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔