تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 11
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ﴿11﴾
- وَقَالَاور کہا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
- لِلَّذِيْنَان کیلئے جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے ( مومن )
- لَوْ كَانَ خَيْرًااگر ہوتا بہتر
- مَّانہ
- سَبَقُوْنَآوہ پہل کرتے ہم پر
- اِلَيْهِ ۭاس کی طرف
- وَاِذْاور جب
- لَمْ يَهْتَدُوْانہ ہدایت پائی انہوں نے
- بِهٖاس سے
- فَسَيَقُوْلُوْنَتو اب کہیں گے
- ھٰذَآ اِفْكٌیہ جھوٹ
- قَدِيْمٌپُرانا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کفر کرنے والوں نے ایمان لانے والوں کے باب میں کہا کہ اگر قرآن کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہ پاتے اور چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہیں حاصل کی تو اب کہیں گی کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقال الذین کفروا اللذین امنوا لوکان خیراً ما سبقونا الیہ دواذ الم یھتدوابہ فسیقولون ھذا افک تدیم 11
منکرین کے اشکبار کی
اوپر والی آیت میں ان منکرین کے جس استکبار کا حوالہ ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ ان ظالموں کی رعونت کا حال یہ ہے کہ اس حق کے خلاف ایک دلیل وہ یہ بھی لاتے ہیں کہ اس کو سب سے پہلے غریبوں نے قبول کیا ہے چناچہ ان کے اغنیار کہتے ہیں کہ اگر اس نئے دین میں کوئی خیر ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ فتو فقیر لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کر جاتے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی اور نعمت تو ان کے حصہ میں آئی نہیں تو یہ چیز اگر فی الواقع کوئی نعمت ہوتی تو یہ اس کی طرف سبقت کرنے والے نہ بنتے بلکہ ہم ہی اس کی طرف بھی سبقت کرتے۔ ان کا اس کی طرف سبقت کرنا دلیل ہے کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے بلکہ یہ انہی چیزوں میں سے ہے جن کے در پے ادنیٰ درجہ کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
واذلم یھتدوابہ فسیقولون ھذا انک قدیم یعنی اب جبکہ اس روشنی سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے انہوں نے گمراہی اور خیرگی ہی حاصل کی ہے تو جو کچھ انہوں نے کہا ہے صرف اسی پر بس نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ کوئی نیا جھوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جھوٹ قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے، ہر دور میں کچھ لوگ رہے ہیں جو اسی قسم کے ڈراوے سنا کر لوگوں پر اپنی دھونس جماتے رہے ہیں لیکن ان کی بات آج تک سچی ثابت نہیں ہوئی۔ جس قیامت سے انہوں نے ڈرایا نہ وہ آئی نہ کبھی آئے گی۔ اس طرح کے لوگوں کا جھوٹ اب بالکل کھل چکا ہے اس وجہ سے ہم ان کی دھونس میں آنے والے نہیں ہیں۔
الذین کفروا سے قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کفار کے اغنیاء مراد ہیں جن کے استکبار کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ للذین امنوا، سے یہاں غربائے مسلمین مراد ہیں اور ل یہاں فی کے مفہوم میں ہے یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
واذ لم یھتدوا بہ، سے یہ بات نکلتی ہے کہ جب انہوں نے ایک بالکل واضح حق کا انکار کیا ہے تو اپنے ضمیر کو تسلی دینے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے انہیں اور بھی باتیں بنانی پڑیں گی چناچہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ تو بہت پرانا جھوٹ ہے۔ اس کو پرانا جھوٹ قرار دینے میں دلیل کا پہلو، ان کے زعم کے مطابق یہ ہے کہ اس کا جھوٹ ہونا بالکل ثابت ہوچکا ہے۔ اگر قیامت آنے والی ہے تو آخر وہ کہاں غائب ہے ایک مدت دراز سے اس کا چرچا ہے لیکن جہاں تک اس کے ظہور کا تعلق ہے ہنوز روز اول ہے۔