Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 12

  1. وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ﴿12﴾

    1. وَمِنْ قَبْلِهٖاور اس سے پہلے
    2. كِتٰبُ مُوْسٰٓىموسیٰ کی کتاب
    3. اِمَامًارہنما
    4. وَّرَحْمَةً ۭاور رحمت
    5. وَھٰذَا كِتٰبٌاور یہ کتاب
    6. مُّصَدِّقٌتصدیق کرنیوالی
    7. لِّسَانًا عَرَبِيًّازبان عربی
    8. لِّيُنْذِرَتاکہ وہ ڈرائے
    9. الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ڰان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا
    10. وَبُشْرٰىاور خوشخبری
    11. لِلْمُحْسِنِيْنَنیکو کاروں کے لئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسکے پہلے سے موسیٰ کی کاتب موجود ہے، رہنما اور رحمت ! اور یہ کتاب اس کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہے، عربی زبان میں تاکہ ان لوگوں کو آگاہ کرے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور یہ بشارت ہے خوب کاروں کے لئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً ورحمۃ و ھذا کتب مصدق بساناً عوبیا ینذر الذین ظلموا وبشریٰ للمحسنین 12 قرآن کے حق میں تورات کی شہادت کا حوالہ یہ قرآن کے حق میں توریت کی شہادت کا حوالہ ہے۔ اگرچہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے اس کا ذکر مقدم ہونا تھا لیکن ان خاص وجوہ سے جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، حضرت مسیح کی شہادت کا ذکر پہلے آیا۔ اب یہ تورات کا حوالہ دے کر اس شہادت کے تسلسل کو ظاہر فرما دیا کہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی امام اور رحمت بن کر آچکی ہے امام کے معنی رہنما کے ہیں۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو قرآن کے باب میں ھدی و رحمۃ کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ دنیا اور آخرت دونوں کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ کی کتاب دنیا میں رہنمائی کرتی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کی اصل حیثیت امام کی ہے۔ جن طرح امام کی اقتدار لازمی ہے اسی طرح زندگی کے معاملات میں اس کتاب کی اقتدار واجب ہے۔ اگر اس کی یہ حیثیت باقی نہ رہے تو خواہ باقی نہ رہے تو خواہ زبان سے اس کا کتنا ہی احترام کیا جائے اور اس کو کتنا ہی چوما چاٹا جائے لیکن یہ ساری باتیں عند اللہ بےسود ہیں۔ قرآن تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق وھذا کتب مصدق لسانا عدبیا، یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح حضرت مسیح ؑ نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔ عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ قرآن چونکہ تورات کو ایک آسمانی کتاب تسلیم کرتا ہے اس وجہ سے قرآن بھی ایک آسمانی کتاب ہوا۔ یہ بات بالکل لا یعنی ہے۔ قرآن اگر تورات کو ایک آسمانی کتاب مانتا ہے تو یہ تورات کے آسمانی ہونے کی ایک دلیل تو بیشک ہوئی لیکن اس قرآن کا آسمانی ہونا کیسے ثابت ہوجائے گا ؟ قرآن کے آسمانی ہونے کی تصدیق تورات کی زبان سے تو اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے اندر قرآن اور اس کے حامل سے متعلق پیشین گوئیاں ہوں اور قرآن کے نزول اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے ان پیشین گوئیوں کی اس طرح تصدیق ہوجائے کہ کسی منصف کے لئے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے بلکہ ہر دیانتدار اور غیر جانبدار آدمی پکار اٹھے کہ بیشک ان پیشین گوئیوں کا حقیقی مصداق سامنے آگیا اور اس مصداق نے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کردی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اسیپہلو سے پچھلے صحیفوں کا مصداق کہا ہے، نہ کہ اس پہلو سے جو لوگوں نے عام طور پر سمجھا ہے۔ قرآن ان صحیفوں کا آسمانی ہونا تو بیشک مانتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کے محرف ہونے کا بھی اعلان کرتا ہے۔ اس وجہ سے یہ تصدیق مطلق نہیں بلکہ اس خاص مفہوم میں ہے جس کی ہم نے اوپر وضاحت کی ہے۔ اس مفہوم کے لئے لفظ تصدیق کا اسعتمال عربی میں معروف ہے۔ اس کے محل میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ لساناً عربیا لینذرالذین ظلموا۔ یہ اہل عرب پر احسان کا اظہار بھی ہے اور اس میں تو رات کی بعض پیشین گوئیوں کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اہل عرب پر احسان کا پہلو تو واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عربی میں نازل فرما کر ان کی زبان کی عزت بڑھائی، اس کو بقائے دوام کی سند عطا فرمائی، ان کو اپنے دین کی ترجمانی اور اس کی گواہی کے لئے چنا اور ان کے ہر عذر کا خاتمہ کردیا۔ سابق پیشین گوئیوں کی طرف اس میں اشارہ کا پہلو یہ ہے کہ تورات میں آخری رسول سے متعلق یہ بات موجود ہے کہ اس کی بعثت امیوں یعنی بنی اسماعیل میں ہوگی۔ ان امیوں کی زبان ظاہر ہے کہ عربی تھی اس وجہ سے ان کی زبان کا حوالہ گویا خود ان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ لینذر الذین ظلموا یہ اس کتاب کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے اتارا ہے کہ جن لوگوں نے شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو اس کے انجام سے آگاہ کردیا جائے تاکہ جو اپنی اصلاح کرنی چاہیں وہ آخری نتائج کے سامنے آنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلیں۔ قرآن کا اصل مقصد وبشریٰ للسحسنین یہ اس کتاب کا دوسرا مقصد بیان ہوا ہے اور چونکہ اصل مقصود یہی ہے اس وجہ سے اس کا ذکر بشکل اسم ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم اور دائمی خوش خبری ہے خوب کاروں کے لئے محسنین یہاں الذین ظلموا کے مقابل میں ہے جس کے لفظ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی حفاظت کی اور اپنی زندگی کو اپنے خالق کی حدود وقیوم کے اندر رکھا۔