تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 18
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ﴿18﴾
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- الَّذِيْنَوہ جو
- حَقَّثابت ہوگئی
- عَلَيْهِمُان پر
- الْقَوْلُبات (عذاب)
- فِيْٓ اُمَمٍامتوں میں
- قَدْ خَلَتْگزر چکیں
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے قبل
- مِّنَ الْجِنِّجنات سے
- وَالْاِنْسِ ۭاور انسان (جمع)
- اِنَّهُمْ كَانُوْابیشک وہ تھے
- خٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی وعید پوری ہوئی۔ ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزرے جنوں اور انسانوں میں سے بیشک یہ نامراد ہونے والوں میں سے ہوئے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن ولانس ط انھم کانوا خسرین 18
لا ابالیوں کا انجام
یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ یہاں اشارے، ضمیریں اور افعال سب جمع استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ الذی یہاں الذین ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اوپر والی آیت میں ذکر کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ ایک خاص قماش کے لوگوں کا تھا۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہوگئی۔ اللہ کی بات، سے مراد وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ ”فی امم، بالکل اسی موقع و محل میں ہے جس محل میں اوپر والی آیت میں فی اصحب البغتہ ہے مقصود اس سے ان کے زمرے کو بتانا ہے کہ یہی انہی جنوں اور انسان کے ساتھ بنیں گے جو ان سے پہلے انہی کی طرح لا ابالیانہ زندگ گزار کے اپنی عاقبت برباد کرچکے تھے۔