تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 21
وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿21﴾
- وَاذْكُرْاور یاد کر
- اَخَا عَادٍ ۭعاد کے بھائی
- اِذْ اَنْذَرَجب اس نے ڈرایا
- قَوْمَهٗاپنی قوم
- بِالْاَحْقَافِاحقاف میں
- وَقَدْ خَلَتِاور گزرچکے
- النُّذُرُڈرانے والے
- مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِاس سے پہلے
- وَمِنْ خَلْفِهٖٓاور اس کے بعد
- اَلَّا تَعْبُدُوْٓاکہ تم عبادت نہ کرو
- اِلَّا اللّٰهَ ۭاللہ کے سوا
- اِنِّىْٓ اَخَافُبیشک میں ڈرتا ہوں
- عَلَيْكُمْتم پر
- عَذَابَعذاب
- يَوْمٍایک دن
- عَظِيْمٍبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو۔ جب کہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں آگاہ کیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو، میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور اس کے آگے اور پیچھے آگاہ کرنے والے گزر چکے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-4 آگے آیات 28-21 کا مضمون
آگے بالا جمال قوم عاد کی تکذیب اور ان کے انجام کا حوالہ ہے۔ مقصود اس حوالہ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا اور قریش کے متکبرین کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو وہ بھی اسی طرح کے انجام سے دوچار ہوں گے جس سے وہ دور چار ہوئے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
واذا کر اخا عاد ط اذا نذر قومہ بالاحقاف و قد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الاتعبدو الا اللہ ط انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم 21
اخا عاد سے مراد حضرت ہود ؑ ہیں جو قوم عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم عاد ہی کے ایک فرد تھے اس وجہ سے ان کو عاد کا بھائی کہا۔ رسول کا اپنی قوم کے اندر سے ہونا اتمام حجت کے پہلو سے اپنے اندر گوناگوں اہمیتیں رکھتا ہے جن کی وضاحت برابر کرتے آ رہے ہیں۔
الاحقاف لغت میں تو ریگ کے ستطیل تودوں کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان ویمن اور نجد و حضرموت کے درمیان الاحقاف کے نام سے موسوم ہے اور جو قوم عاد کا اصل مسکن رہا ہے۔ اس نام سے ذکر کر کے قرآن نے یہاں اس عظیم تباہی کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس علاقہ سے آئی۔ ظاہر ہے کہ جس دور میں قوم عاد یہاں اپنے عروج پر تھی اس زمانے میں یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب اور ان عظیم تمدنی کارناموں سے معمور رہا ہوگا جن کے سبب سے قوم عاد کو تاریخ میں ایک خاص شہرت و عظمت حاصل ہوئی۔ لیکن اب وہی مقام ہے جہاں ایک لق و دق صحرا ہے جس کو دیکھ کر کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں تعمیر و تمدن کا بھی کوئی نقش قائم ہوا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ الاحقاف کے نام سے یہ علاقہ عاد کے زوال کے بعد موسوم ہوا ہے جب یہاں شاندار تعمیرات کی جگہ صرف ریت کے ٹیلے رہ گئے۔
وقد خلت النذرمن بین یدیہ ومن خلفہ یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ نذر یہاں نذیر کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ کا انذار کوئی انوکھا انذار نہیں تھا، آگے اور پیچھے کے علاقوں میں بھی اسی طرح کے منذر آ چکے تھے اور انہوں نے اللہ کے جس عذاب سے لوگوں کو ڈرایا تھا اس کے آثار بھی موجود تھے لیکن جس طرح اگلوں نے کوئی سبق نہیں لیا اسی طرح ان پچھلوں نے بھی اپنے منذر کے انذار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
تمام فساد کی جڑ شرک ہے
لا اتعبدوآ الا اللہ ط انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم یہ حضرت ہود ؑ کا اصل اندار ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی نہ کرو۔ اگر تم اپنی روش سے باز نہ آئے تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر ایک ہولناک دن کا عذاب آ دھکے گا اس سے معلوم ہوا کہ اصل فساد کی جڑ شرک ہے جس سے تمام دوسرے فسادات کی شاخیں پھوٹتی ہیں اس وجہ سے اللہ کے رسولوں نے سب سے پہلے اسی سے آگاہ کیا اور اس کا انجام یہ بتایا کہ اگر لوگوں نے اپنی روش کی اصلاح نہ کی تو خدا کے ہولناک عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ شرک خدا کی زمین میں اس کے خلا بغاوت ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جس قوم پر اپنے رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کردیتا ہے اور پھر بھی وہ اپنی اس سرکشی سے باز نہیں آتی تو اس کو مزید مہلت نہیں ملتی۔