تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 22
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿22﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے
- اَجِئْتَنَاکیا تو ہمارے پاس آیا
- لِتَاْفِكَنَاکہ تو پھیر دے ہمیں
- عَنْ اٰلِهَتِنَا ۚہمارے معبودوں سے
- فَاْتِنَاپس لے آ ہم پر
- بِمَاجو کچھ
- تَعِدُنَآتو وعدہ کرتا ہے ہم سے
- اِنْ كُنْتَاگر تو ہے
- مِنَ الصّٰدِقِيْنَسچوں میں سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جھوٹ بول کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو تو اگر تم سچوں میں سے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوآ اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا ج فاتنا بما تعد نآ ان کنت من الصدقین 22
قوم کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب
افک کے معنی جھوٹ بولنے کے ہیں اس کے بعد عن کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ کسی ایسے فعل پر متضمن ہے جس کے معنی پھیرنے اور برگشتہ کرنے کے ہیں۔ یعنی انہوں نے حضرت ہود کے اس انداز کا جواب یہ دیا کہ اچھا آپ اس مقصد سے ہمارے پاس رسول بن کر تشریف لائے ہیں کہ جھوٹ موٹ اپنی رسالت اور ایک عذاب کی دھونس جما کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کریں ! اگر یہ بات ہے تو وہ عذاب ہمارے اوپر لائو جس سے ڈرا ہے ہو، اس کے بغیر ہم تمہارا سچا ہونا تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔