Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 20

  1. وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ع﴿20﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. يُعْرَضُلائے جائیں گے
    3. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    4. عَلَي النَّارِ ۭآگ کے سامنے
    5. اَذْهَبْتُمْتم لے گئے (حاصل کرچکے)
    6. طَيِّبٰتِكُمْاپنی نعمتیں
    7. فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَااپنی دنیا کی زندگی میں
    8. وَاسْتَمْتَعْتُمْاور تم فائدہ اٹھاچکے
    9. بِهَا ۚان کا
    10. فَالْيَوْمَپس آج
    11. تُجْزَوْنَتمہیں بدلہ دیا جائے گا
    12. عَذَابَ الْهُوْنِرسوائی کا عذاب
    13. بِمَااس لئے کہ
    14. كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَتم تکبر کرتے تھے
    15. فِي الْاَرْضِزمین میں
    16. بِغَيْرِ الْحَقِّناحق
    17. وَبِمَااور اس لئے کہ
    18. كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَتم نافرمانیاں کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس دن کو یاد رکھو جس دن کفر کرنے والے جہنم کے سامنے لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے حصہ کی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے اور برت چکے تو آج تم ذلت کا عذاب بدلے میں پائو گے بوجہ اس کے کہ تم زمین میں بغیر کسی حق کے گھمنڈ کرتے رہے اور بوجہ اس کے کہ تم نافرمانی کرتے رہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ویوم یعرض الذین کفروا علی النار ط ادھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا و استمتعتم بھا ج فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون 20 اوپر ولکل درجت مما عملوا میں اگرچہ اجمالاً دونوں گروہوں کے نتائج اعمال کا ذکر ہوچکا ہے لیکن یہاں مخاطب خاص طور پر متکبرین قریش ہیں اس وجہ سے ان کے انجام کی وضاحت خاص طور پر فرمائی ارشاد ہوا کہ اس دن کا خیال کرو جس دن یہ متکبرین جہنم کے سامنے حاضر کئے جائیں گے اور ان سے ہا جائے گا کہ تمہارے حصہ میں جو نعمتیں مقدر تھیں وہ تم دنیا میں برت چکے۔ اب تمہارے لئے صرف ذلت کا عذاب ہے اس لئے کہ تم بلا کسی حق کے خدا کی زمین میں تکبر اور اس کے احکام کی نافرمانی کرتے رہے۔ اذھبتم طیباتکم کے معنی ہیں تم نے اپنے حصہ کی نعمتیں ختم کرلیں۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اگر وہ اپنے رب کے شکر گزار رہتے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو وہ اپنی آخرت کے لئے بھی نعمتوں کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جو لوگ نعمتیں پا کر استکبار میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا سارا ذخیرہ یہیں ختم ہوجاتا ہے، آخرت میں صرف ان کا وبال ان کے حصہ میں آئے گا۔ استکبار کے ساتھ بغیر الحق کا اضافہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ ساری نعمتیں بخشتا تو اللہ تعالیٰ ہے تو ان کو پا کر کسی کو اکڑنے اور اترانے کا کیا حق ہے۔ آدمی اترائے تو جب کہ وہ کسی چیز کا خالق ہو اور خدا کے دیئے بغیر اس نے محض اپنی ذاتی قابلیت سے کوئی چیز حاصل کی ہو۔ جب ہر چیز خدا ہی کی دی ہوئی ہے تو اترانا بالکل جہل و حماقت ہے اور اس سے بھی بڑی حماقت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتیں اسی کی نافرمانی میں استعمال کرے۔