Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 26

  1. وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿26﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ
    2. مَكَّنّٰهُمْہم نے ان کو قدرت دی تھی
    3. فِيْمَآاس میں
    4. اِنْنہیں
    5. مَّكَّنّٰكُمْہم نے قدرت دی تمہیں
    6. فِيْهِاس میں، پر
    7. وَجَعَلْنَااور ہم نے بنائے، دئیے
    8. لَهُمْانہیں
    9. سَمْعًاکان
    10. وَّاَبْصَارًااور آنکھیں
    11. وَّاَفْئِدَةً ڮاور دل (جمع)
    12. فَمَآ اَغْنٰىتو نہ کام آئے
    13. عَنْهُمْان کے
    14. سَمْعُهُمْان کے کان
    15. وَلَآ اَبْصَارُهُمْاور نہ ان کی آنکھیں
    16. وَلَآ اَفْئِدَتُهُمْاور نہ دل ان کے
    17. مِّنْ شَيْءٍکچھ بھی
    18. اِذْجب
    19. كَانُوْا يَجْحَدُوْنَ ۙوہ انکار کرتے تھے
    20. بِاٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کا
    21. وَحَاقَاور اس نے گھیر لیا
    22. بِهِمْان کو
    23. مَّا كَانُوْاجو وہ تھے
    24. بِهٖاس کا
    25. يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کے قدم ان رفاہیتوں کے اندر جمائے تھے جن کے اندر تمہارے قدم نہیں جمائے اور ہم نے ان کو کان، آنکھ اور دل دیے لیکن چونکہ وہ اللہ کی آیات کے منکر رہے اس وجہ سے نہ ان کے کان ان کے کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولقد مکنھم فیمآ ان مکنکم فیہ وجعلنا لھم سمعاً وابصار او افبدہ فما اغنی عنھم سمعھم ولابصارھم ولا افئذتھم من شیء اذکانوا یجحدون بایت اللہ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزون 26 قریش کو تنبیہ یہ قریش کو براہ راست مخاطب کر کے ان کے سامنے وہ سبق رکھا ہے جو اس سرگزشت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اساب و وسائل کی جو فراوانی اور تعمیر و تمدن کی جو عظمت و شوکت ان کو حاصل ہوئی وہ تم کو حاصل نہیں ہے لیکن دیکھ لو، جب ہم نے ان کو پکڑنا چاہا تو وہ ہماری پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکے ! ہم نے ان کو کان، آنکھ اور دل کی تمام صلاحیتیں عطا فرمائیں لیکن چونکہ وہ ہماری آیات کی روشنی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس وجہ سے ان کے کان، آنکھ، دل ان کے کچھ کام آنے والے نہ بنے بلکہ وہ ساری ذہانت و فطانت رکھتے ہوئے اس عذاب کی گرفت میں آگئے جس کا مذاق اڑاتے رہے تھے۔ کان، آنکھ اور دل کی صلاحیتیں آیات الٰہی سے بیدار ہوتی ہیں اس سے حقیقت سامنے آئی کہ کان، آنکھ اور دل کے اندر بھی حقیقی روشنی اللہ تعالیٰ کی آیات ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ آیات الٰہی کے نور سے یہ منور نہ ہوں تو ان کی ساری رسائی صرف محسوسات تک محدود رہتی ہے اور ان محسوسات پر بھی وہ اپنا سارا زور محسوس فوائد ہی کے حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ اس محسوس پرستی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی یہ ساری اصلی صلاحیتیں بالکل کند ہو کے رہ جاتی ہیں۔ وہ اشیاء کے محسوس اور مادی پہلو کے سوا کسی اور پہلو پر نہ غور کرسکتا اور نہ اس پر غور کرنے کی کوئی ضرورت محسوس کرتا حالانکہ غور کرنے کا اصلی پہلو وہی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس طرح کے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کے پاس کان ہیں لیکن وہ سنتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں۔