تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 28
فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿28﴾
- فَلَوْلَاپھر کیوں نہ
- نَصَرَهُمُمدد کی ان کی
- الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْاجنہیں بنالیا انہوں نے
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- قُرْبَانًاقرب حاصل کرنے کو
- اٰلِهَةً ۭمعبود
- بَلْ ضَلُّوْابلکہ وہ گم (غائب) ہوگئے
- عَنْهُمْ ۚان سے
- وَذٰلِكَاور یہ
- اِفْكُهُمْان کا بہتان
- وَمَااور جو
- كَانُوْا يَفْتَرُوْنَوہ افترا کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو کیوں نہ ان کی مدد کی انہوں نے جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کے لئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ سب ان سے کھوئے گئے اور یہ ان کا جھوٹ اور ان کا افتراء تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلولا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قرباناً الھۃ بل ضلواعنھم وذلک افکھم وما کانوا یفترون 28
ایک سوال
یہ قریش کے سامنے ایک سوال رکھا ہے کہ اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو آخر ان کے معبودوں نے ان کو خدا کے عذاب سے کیوں نہیں بچایا، انہوں نے بھی تو تمہاری ہی طرح ان معبودوں کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کیا تھا ؟ بل ضلوا عنھم یعنی وہ تو سب عین وقت پر کھوئے گئے، کوئی بھی ان کے کام آنے والا نہ بنا۔
ذلک افکھم وما کانوا یفترون یعنی ثابت ہوا کہ یہ سب ان کا جھوٹ اور افترائے محض تھا، انہوں نے محض اپنے جی سے ان کو معبود بنایا اور پھر خدا پر یہ بہتان باندھا کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے۔
قرباناً مفعول لہ ہے۔ یہ مشرکین کے اس عقیدہ کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر ان کے قول ما نعبدھم الا یفربونا الی اللہ زلفی، (ہم ان کو صرف اس خیال سے پوجتے ہیں کہ ہمیں خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب کردیں) میں ہوا ہے۔
یہ امر واضح رہے کہ مشرکین جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کو خلق کا خالق ومالک سمجھ کر نہیں پوجتے تھے بلکہ اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں، ان کی عبادت خدا کے تقرب کا ذریعہ ہوگی۔ فرشتوں کے متعلق ان کا جو عقیدہ تھا وہ اس کتاب میں جگہ جگہ زیر بحث آچکا ہے۔