Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 3

  1. مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ﴿3﴾

    1. مَا خَلَقْنَانہیں پیدا کیا ہم نے
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    3. وَالْاَرْضَاور زمین
    4. وَمَااور جو
    5. بَيْنَهُمَآان دونوں کے درمیان
    6. اِلَّا بالْحَقِّمگر حق کے ساتھ
    7. وَاَجَلٍاور میعاد
    8. مُّسَمًّى ۭمقررہ
    9. وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں نے
    10. كَفَرُوْاکفر کیا
    11. عَمَّآجس سے
    12. اُنْذِرُوْاوہ ڈرائے جاتے ہیں
    13. مُعْرِضُوْنَروگردانی کرنیوالے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نہیں پیدا کیا مگر ایک غایت اور معین مدت کے لئے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ماخلقنا السموت والارض وما بینھا الابالحق واجل مسمی والذین کفروا عمآ انذرما معضرون 3 یہ ان لوگوں کے مال پر اظہار افسوس ہے جو خدائے عزیز و حکیم کے اتارے ہوئے اس صحیفہ گرامی کی تکذیب پر مصر اور اس چیز سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے تھے جس سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ نے اس کو نازل کیا تھا۔ اس دنیا کے بامقصد ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے بعد ردز جزا ہو عما انذروا سے اشارہ ظاہر ہے کہ قیامت کی طرف ہے اور قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نہ ماننے سے یہ سارا کارخانہ عالم ایک بالکل عبث اور بےمقصد و بےغایت کھیل بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عالم بالحق یعنی ایک غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز یعنی غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ حکیم بھی ہے۔ اگر قیامت نہ ہو تو اس دنیا کو دیکھ کر یہ بات تو ثابت ہوگی کہ اس کے بنانے والے کی قدرت بےنہایت ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ اس نے یہ ایک بالکل بےمقصد اور باطل کام کر ڈالا ہے۔ حالانکہ یہ بات اس کی ظاہر صفات کے بالکل منافی ہے۔ اس دنیا سے جس طرح اس کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اسی طرح اس کی حکمت بھی مشاہدے میں آتی ہے اور یہ دونوں صفتیں بالکل پہلو بہ پہلو اس میں موجود ہیں۔ یہاں زبان کا وہ نکتہ یاد رکھیے جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں کہ جب صفات کا بیان بغیر حرف عطف کے ہو جس طرح العزیز الحکیم میں ہے تو اس سے بہ بات نکلتی ہے کہ یہ صفات موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ باالحق واجل مسمی یعنی جس طرح اس کائنات کا بالحق ہونا واضح ہے اسی طرح اس کے بالحق ہونے کا ایک بدیہی تقاضا یہ بھی ہے کہ دنیا اسی طرح برابر چلتی نہ رہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ ایک معین مدت تک کے لئے ہو جس کے بعد یہ ختم ہو پھر اس کی عدالت قائم ہو جس نے اس میں نیکی کمائی ہو اس کو اس کی نیکی کا صلہ ملے اور جس نے بدی کمائی ہو وہ اپنی بدی کی سزا بھگتے۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں ممکن ہے ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ بات تو معقول معلوم ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنینی کی یا بدی کی جزا یا سزا پائے لیکن اس کے لئے یہ کیا ضروری ہے کہ یہ پوری دنیا ایک معین مدت کے بعد ختم ہوجائے کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ برابر قائم بھی رہے اور جو مرتے جائیں ان کی عدالت بھی ہوتی رہے ؟ یہ سوال یوں تو ذہن میں متعدد غلط فہمیوں کے موجود ہونے کے سبب سے پیدا ہوتا ہے جن پر یہاں بحث کے لئے گنجائش نہیں ہے لیکن ایک چیز کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے، وہ یہ کہ انسان کا ہر عمل خواہ نیکی کا عمل ہو یا بدی کا، اپنے اندر متعدی ہونے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک شخص ایک نیکی کا تخم بوتا ہے جس کی برکتوں سے صدیوں اور قرنوں تکاولاد آدم مستفید ہوتی ہے، اسی طرح ایک شخص ایک غلط اور گمراہ کن فلسفہ ایجاد کرتا ہے جس کی ضلالت ایک خلق کثیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پھر وہ متداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اتنی مستحکم ہوتی جاتی ہے کہ اس کو اکھاڑنا تو درکنار قوموں کے بعد قومیں اٹھتی اور اپنی صلاحیتیں ان کو پروان چڑھانے پر صرف کرتی ہیں۔ اس صورتحال کے سبب سے کسی کی نیکی یا بدیکا صحیح اندازہ اس کو کرانا ہو تو یہ ضروری ہوگا کہ ان کے بعید سے بعید اثرات اس کے سامنے لائے جائیں اور عناصر کائنات میں سے جو بھی اس کی کسی نیکی یا بدی کے گواہ ہوں ان کو پیش کیا جائے۔ اس کے بغیر کامل عدل ظہور میں نہیں آسکتا۔ اس وجہ سییہ ضروری ہوا کہ ایک دن اس دنیا کی مدت پوری ہو اور اللہ تعالیٰ ایک ایسی عدالت میں لوگوں کا فیصلہ فرمائے جس میں سب حاضر ہوں، یہاں تک کہ آسمان اور زمین سے بھی اگر کسی معاملہ میں گواہی مطلوب ہو تو ان کو بھی ان کے سارے ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا جائے۔ یہ چیز ظاہر ہے کہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سب کا روز انصاف ایک ہو۔