تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 12
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ﴿12﴾
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- يُدْخِلُداخل کرتا ہے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
- الصّٰلِحٰتِنیک
- جَنّٰتٍباغات
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
- الْاَنْهٰرُ ۭنہریں
- وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا
- يَتَمَتَّعُوْنَوہ فائدہ اٹھاتے ہیں
- وَيَاْكُلُوْنَاور وہ کھاتے ہیں
- كَمَاجیسے
- تَاْكُلُکھاتے ہیں
- الْاَنْعَامُچوپائے
- وَالنَّارُاور آگ
- مَثْوًىٹھکانا
- لَّهُمْان کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اسی طرح بہرہ مند ہو رہے اور کھا رہے ہیں جس طرح چوپ ائے کھاتے ہیں۔ دوزخ ان کا ٹھکانا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان اللہ یدخل الذین امنوا و عملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر ط والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم 12
یہ اہل ایمان کے اعمال کے ثمر اور کفار کے اعمال کے رائیگاں ہونے کی مزید وضاحت اور اس شہ کا جواب ہے کہ جب کفار کے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو اس دنیا میں وہ کیوں دندناتے پھر رہے ہیں ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی رہے یہ کفار تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس دنیا میں ان کو کھانے بسنے کی جو مہلت ملی ہے یہ کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ ان کا کھانا پینا جانوروں کے مانند ہے۔ یہ عقل و خرد سے عاری اور ان حقوق کے شعور سے بالکل نابلد ہیں جو اللہ کی نعمتیں ان پر عائد کرتی ہیں اس وجہ سے یہ چند روز ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا لیں لیکن یہ ان کے لئے موجب وبال ہوں گی اور ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہوگا۔