تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 24
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا﴿24﴾
- اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَتو کیا وہ غور نہیں کرتے
- الْقُرْاٰنَقرآن
- اَمْکیا
- عَلٰيپر
- قُلُوْبٍدلوں
- اَقْفَالُهَاان کے تالے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دلوں کا فرنگ قرآن کے تدبر سے دور ہوتا ہے۔
افلایتذبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (24)
فرمایا کہ دلوں کو زندہ کرنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ یہ اس پر تدبر کرتے لیکن یہ ناقدرے لوگ کبھی اس پر غور نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دلوں جو جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گئے ہیں کہ جس طرح قفل سے دروازے بند ہوجاتے ہیں اسی طرح ان کے دل بھی اس زنگ سے بند ہوچکے ہیں۔
لفظ قلوب کی تنکیر یہاں اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے۔ اس کی مثال سورة نساء کی آیت 47 میں گزر چکی ہے۔ وہاں اہل کتاب کو مخاطبط کر کے فرمایا ہے۔ امنوا بما نزلنا مصدقاً لما معکم من قبل ان لطمس وجوھاً فنرلھا علی ادبارھا (ایمان لائو اس چیز پر جو ہم نے اتاری ہے تصدیق کر تیہ وئی اس چیز کی جو تمہارے پاس موجود ہے، قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا کر ان کے پیچھے کی طرف موڑ دیں) یہاں جس طرح وجوھا کی تنکیر اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے اسی طرح آیت زیر بحث میں لفظ قلوب کی تنکیر بھی اظہار کراہت کے لئے ہے۔ گویا یہ دل ایسے قابل نفرت اور گھنونے ہیں کہ متکلم کو تعین کے ساتھ ان کی طرف اشارہ بھی گوارا نہیں اقفالھا سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دلوں کو روگ یا زنگ کی طرح لگتی ہیں۔ اس قسم کے روگوں کا ذکر اس سورة میں بھی ہوا ہے۔ (مثلاً اوپر آیت 20 اور آگے آیت 29 میں) اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی ان کا ذکر تفصیل سے موجود ہے۔ دنیا کی محبت، موت کا ڈر، بخل، بزدلی، کینہ، حسد، نفاق اور اس قبیل کی دوسری چیزیں اس کے نمایاں اجزاء ہیں۔ اگر ریاست و امارات حاصل ہو تو کبرو غرور کا بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور قساوت بھی اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوجاتی ہے۔ ان بیماریوں کا علاج قرآن کو سننا اور سمجھنا ہے، جیسا کہ سورة انفال کی آیات 24-23 کے تحت اس کی وضاحت ہوچکی ہے لیکن اس طرح کے لوگوں کو سب سے زیادہ وحشت قرآن ہی سے ہوتی یہ۔ اس وجہ سے ان کا علاج ناممکن ہوجاتا ہے۔