تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 25
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ﴿25﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
- ارْتَدُّوْاپلٹ گئے
- عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْاپنی پشت پر
- مِّنْۢ بَعْدِاس کے بعد
- مَا تَبَيَّنَجب واضح ہوگئی
- لَهُمُان کے لئے
- الْهُدَى ۙہدایت
- الشَّيْطٰنُشیطان
- سَوَّلَآراستہ کر دکھایا
- لَهُمْ ۭان کے لئے
- وَاَمْلٰىاور ڈھیل دی
- لَهُمْان کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو لوگ، بعد اس کے کہ ان پر ہدایت ظاہر ہوگئی، پیٹھ پیچھے پلٹ گئے شیطان نے ان کو فریب دیا اور اللہ نے ان کو ڈھیل دے دی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی الشیطان سول لھم واملی لھم 25
نفاق ارتداد ہے
فرمایا کہ ان منافقین کی یہ روشن ارتداد کی روش ہے۔ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ راہ حق یہی ہے جس کی طرف پیغمبر دعوت دے رہے ہیں۔ چناچہ آگے بڑھ کر انہوں نے اس کو قبول بھی کرلیا لیکن جب آزمائشوں سے سابقہ پڑا تو شیطان نے ان کو فریب دیا اور یہ اس کے فریب میں مبلا ہوگئے اور خدا نے بھی ان کو ڈھل دے دی اس لئے کہ جو لوگ جان بوجھ کر محض اپنی خواہشوں کی پیروی میں راہ حق سے انحراف اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو ڈھیل دے دیتا ہے کہ وہ جس وادی میں ہرزہ گردی کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔
نفاق کو ارتداد ہونا قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی واضح ہے۔ سورة مائدہ آیت 54 میں انہی منافقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ“ (اے ایمان لانے والوچ جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہونا چاہتا ہے وہ برگشتہ ہوجائے، خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ”عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کریں گے)
املی کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن میں یہ فعل اللہ تعالیٰ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اسی کے لئے اس کا استعمال موزوں ہے۔ شیطان کی طرف اس کی نسبت کسی طرح موزوں نہیں ہیغ۔ قرینہ موجود ہو تو مجر و فعل ہی بتا دیتا ہے کہ اس کا فاعل کون ہے۔ اس کی متعدد نظریں قرآن میں موجود ہیں۔
سورة یوسف کی آیت 110 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔