تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 3
ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ﴿3﴾
- ذٰلِكَیہ
- بِاَنَّاس لئے کہ
- الَّذِيْنَجن لوگوں نے
- كَفَرُواکفر کیا
- اتَّبَعُواانہوں نے پیروی کی
- الْبَاطِلَباطل کی
- وَاَنَّ الَّذِيْنَاور یہ کہ جو لوگ
- اٰمَنُواایمان لائے
- اتَّبَعُواانہوں نے پیروی کی
- الْحَقَّحق کی
- مِنْسے
- رَّبِّهِمْ ۭاپنا رب
- كَذٰلِكَاسی طرح
- يَضْرِبُ اللّٰهُاللہ بیان کرتا ہے
- لِلنَّاسِلوگوں کے لئے
- اَمْثَالَهُمْان کی مثالیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس وجہ سے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف آئے ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لئے ان کی مثالیں بیان کر رہا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الحق من ربھم ط کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم 3
قوت صرف حق کے اندر ہے
یہ وجہ بتائی ہے اس بات کی کہ کیوں کفار کی تمام مساعی رائیگاں ہوں گی اور کیوں اہل ایمان اپنی کوششوں میں سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے فرمایا ہے ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ کفار نے شیطان کے سکھائے ہونے باطل کی پیروی کی ہے اور اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ باطل کے لئے ان کی عقلی اور اس کی فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مثال خودرو جھاڑی کی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ پڑتی ہے۔ اگر وہ اکھاڑی نہ جائے تو زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور اگر کھاڑ دی جائے تو وہ بالکل بےثبات ہوتی ہے۔ چناچہ اب جب کہ اہل حق اس باطل سے نبرد آزمائی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو اس کا مٹ جانا یقینی ہے۔ جآء الحق و زھق الباطل ط ان الباطل کان ذھوقاً (بنی اسرآئیل :81) (حق آگیا اور باطل نابود ہوا، بیشک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔
اس کے برعکس اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ حق کی فطرت میں ثبات و استحکام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق حق ہے اور اس نے یہ دنیا بالحق پیدا کی ہے۔ اس کا اصل مزاج باطل کی پرورش نہیں بلکہ حق کی پرورش ہے۔
اب جب کہ حق آگیا ہے تو اس باطل کو لازماً ٹھکرا دے گی جو اکاس بیل کی طرح اس پر مسلط ہوگیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصلی زور و قوت اسباب و وسائل کے اندر نہیں بلکہ حق کے اندر ہے۔ اگر کشمکش باطل اور باطل کے درمیان ہی برپا ہو تب تو فیصلہ کی میزان اسباب و وسائل کے ہاتھ ہی میں ہوتی ہے لیکن کشمکش اگر حق اور باطل کے درمیان ہو تو اصلی فیصلہ کن اہمیت حق کو حاصل ہوگی، اسباب و وسائل کی حیثیت ثانوی ہوجائے گی۔
کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم مومنین اور کفار کا یہ انجام جو بیان ہوا ہے اس کی نوعیت چونکہ اس اس مرحلہ میں ابھی ایک پیشین گوئی ہی کی تھی، اس نے واقعہ کی شکل نہیں اختیار کی تھی اس وجہ سے اس کو مثال بیان کرنے سے تعبیر فرمایا۔ للناس سے مراد یہی اہل ایمان اور کفار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے انجام کی یہ تمثیل بیان فرما دی ہے اور اس کی حقیقت عنقریب سب کے سامنے آ کے رہے گی۔