تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 33
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ﴿33﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓاایمان لائے
- اَطِيْعُوا اللّٰهَاطاعت کرو اللہ کی
- وَاَطِيْعُوااور اطاعت کرو
- الرَّسُوْلَرسول کی
- وَلَا تُبْطِلُوْٓااور باطل نہ کرو
- اَعْمَالَكُمْاپنے اعمال
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ وا طیعوا الرسول ولا تبطلوآ اعمالکم 33
خدا کی اطاعت اپنے ذاتی مصالح سے بالاتر ہو کر کرو
خطاب اگرچہ عام ہے لیکن انداز کلام دلیل ہے کہ روئے سخن خاص طور پر ان کی کمزور قسم کے مسلمانوں ہی کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے فرمایا کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے اس ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں فعل اطیعوا اپنے کامل اور حقیقی مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا صحیح مدعا یہ ہوگا کہ ہر طرح کے حالات میں اپنے ذاتی مفادات و مصالح سے بےپروا ہو کر اللہ اور رسول کے ہر حکم کی اطاعت کو۔
ولا طبطلوا اعمالکم یعنی اسی طرح کی اطاعت سے تمہارے اعمال مثمر اور نتیجہ خیز ہوں گے اگر تم نے اس اطاعت کو اپنے مصالح کے تابع رکھا تو یاد رکھو کہ تمہایر تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اگرچہ وہ اعمال دین ہی کے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہی قبول ہوتا ہے جو اس کے شرائط کے کے مطابق ہو، جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لانا اور صرف اپنے مصالح کے حد تک اس کی اطاعت کرنا چاہتے ہیں ان کی دینداری ان کے منہ پر پھینک ماری جانی ہے تو اس طرح کی کوئی بات کر کے اپنے اعمال رائیگاں نہ کرو۔