تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 35
فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ﴿35﴾
- فَلَا تَهِنُوْاپس تم سستی نہ کرو
- وَتَدْعُوْٓااور نہ بلاؤ
- اِلَى السَّلْمِ ڰصلح کی طرف
- وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ڰاور تم ہی غالب
- وَاللّٰهُاور اللہ
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- وَلَنْ يَّتِرَكُمْاور وہ ہرگز کمی نہ کریگا
- اَعْمَالَكُمْتمہارے اعمال میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو تم کمزور نہ پڑو اور سمجھوتے کی دعوت نہ دو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور ورہ تمہایر اعمال کے باب میں تمہارے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلاتھنوا وتدعوآ الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم ولن یترکم اعمالکم (35)
اپنی بزدلی پر پردہ ڈلانے کے لئے منافقین کی ایک تدبیر
سلم کے معنی صلح اور سمجھوتے کے ہیں اوپر آیات 23, 22 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ منافقین چونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تے اس وجہ سے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے کہ جنگ کے بجائے صلحخ سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی دعوت وہ قریش کو بھی دیتے وہ اپنے آپ کو ایک صلح پسند پارٹ کی حیثیت سے پیش کرتے اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہی پالیسی اختیار کرنے میں اس ملک کی خیر ہے ورنہ یہاں بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں رہے گا اور پوری قوم کا شیرازہ ابتر ہوجائے گا۔ ان کی یہ پالیسی مبنی تو تھی تمام تر ان کی بزدلی اور مفاد پرستی پر لیکن وہ اس کی دعوت صلح پسند اور امن دوستی کے روپ میں دیتے اور ان لوگوں کو متاثر کرلیتے جن کے اندر نفاق کے جراثیم ہوتے۔ اس آیت میں ان کی اسی کمزوری سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ تم بزدل ہو کر صلح اور سمجھوتے کے داعی نہ ہو بلکہ عزم و ایمان کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھو۔ اگر تم سچے ایمان کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھو گے تو تمہی سربلند رہو گے اور تمہارے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہے تو اس کی مدد و نصرت ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوگی اور یہ اطمینان رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال کے صلہ کے معاملے میں کوئی خلاف وعدگی و بےوفائی ہرگز نہیں کرے گا بلکہ تمہارے ہر عمل کا، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، بھرپور صلہ دے گا۔
زبان کا ایک نکتہ
فلا تھنوا وتدعوآ الی السلم، میں عربیت کا وہی اسلوب ہے جو البقرۃ کی آیت 42 ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق کے تحت زیر بحث آچکا ہے۔ جہاں معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں ایک ہی حقیقت ظاہر کی گئی ہو وہاں لائے تھی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی صورت آیت زیر بحث میں بھی ہے۔ ان منافقین کی یہ دعوت صلح چونکہ ان کی بزدلی ہی کا نتیجہ تھی اس وجہ سے تدعوا کو فلاتھنوا پر عطف کردیا اور لا کو حذف کردیا تاکہ اسلوب کلام ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ دعوت صلح اس لئے نہیں دے رہے ہو کہ تم بڑے صلح پسند ہو بلکہ یہ محض اپنی بزدلی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام سعی ہے۔
وترہ حقہ کے معنی ہوں گے اس نے اس کے حق میں خیانت یا کمی کی۔ لن یترکم اعمالکم کی معنی ہوں گے کہ اللہ سے یہ اندیشہ نہ رکھو کہ وہ تمہارے اعمال کے صلہ کے باب میں تمہارے ساتھ کوئی بےوفائی یا خیانت کرے گا بلکہ وہ بھرپور صلہ دے گا جب ہر عمل کا بھرپور صلہ ملنے والا ہے تو اس کی راہ میں قربانی سے جی چرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔