تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 36
اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ﴿36﴾
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- لَعِبٌکھیل
- وَّلَهْوٌ ۭاور کود
- وَاِنْاور اگر
- تُؤْمِنُوْاایمان لے آؤ
- وَتَتَّقُوْااور تقوی اختیار کرو
- يُؤْتِكُمْوہ تمہیں دے گا
- اُجُوْرَكُمْتمہارے اجر
- وَلَا يَسْئَلْكُمْاور نہ طلب کرے گا تم سے
- اَمْوَالَكُمْتمہارے مال
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے اور اگر تم ایمان لائو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور تمہارا مال سمیٹ کر تم سے نہیں مانگے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم 36
بے حوصلہ لوگوں کی حوصلہ افزائی
یعنی دنیا کی محبت میں پھنس کر خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو۔ اس دنیا کے مال و متاع کی قدر و قیمت اگر کچھ ہے تو اسی شکل میں ہے جب اس سے آخرت کی کچھ کمائی کرلی جائے اگر کسی نے آخرت کی کمائی نہیں کی تو اس نے اپنی زندگی بوالہوسی و بےحاصل میں گزار دی۔ اطمینان رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ کی زندگی اختیار اور پانا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کا بھرپور صلہ دے گا اور تم اس دنیا کے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی کا تخت و تاج حاصل کرو گے۔
ولایسئلکم اموالکم کے بعد لفظ احفاء مخدوف ہے۔ بعد والی آیت میں اس کی وضاحت آرہی ہے اس وجہ سے یہاں بربنائے قرینہ اس کو حذف کردیا۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا اسلوب قرآن میں بہت معروف ہے۔ سوالوں کے نقل کرنے میں بھی اسی وجہ سے اجمال کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ جواب سے اس اجمال کی وضاحت خود ہوجاتی ہے۔ احفاء کے معنی کسی شے کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینے یا کسی شے کا الحاج و اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے کے ہیں۔ یہ ان بےحوصلہ لوگوں کو اطمینان دہانی ہے کہ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس امتحان میں کبھی نہیں ڈالے گا کہ تم سے تمہارا کل مال سمیٹ کر طلب کرے بلکہ وہ اس کا ایک حصہ ہی طلب کرے گا اور اس کا بھی وہ تمہیں بھرپور صلہ دے گا تو اس کی راہ میں انفاق سے ہراساں ہونے اور اس کی دعوت انفاق سے تنگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔