تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 37
اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ﴿37﴾
- اِنْاگر
- يَّسْئَلْكُمُوْهَاوہ تم سے (مال) طلب کرے
- فَيُحْفِكُمْپھر تم سے چمٹ جائے
- تَبْخَلُوْاتم بخل کرو
- وَيُخْرِجْاور ظاہر ہوجائیں
- اَضْغَانَكُمْتمہاری عداوتیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر وہ تم سے مانگے اور سمیٹ کر مانگے تو تم سنجیلی کرو گے اور ورہ تمہارے کینوں کو ظاہر کر دے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان یسئلکم ھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم 37
اللہ تعالیٰ بندوں کا امتحان لینے میں نہایت کریم ہے
یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کل مال کا مطالبہ اس وجہ سے نہیں کرے گا کہ وہ ایسا کرے تو تمہارا سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا پھر تم لازماً بخل کرو گے اور اس طرح تمہارا وہ حسد اور کینہ جو تم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے سنیوں میں چھپائے ہوئے ہو سب پر آشکارا ہوجائے گا اوپر آیت 29 میں ان منافقین ہی کے لئے یہ دھمکی گزر چکی ہے کہ یہ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ اللہ ان کے حسد و کینہ پر ہمیشہ پردہ ڈالے رکھے گا۔ وہ ان کو کسی آزمائش میں ڈال کر جب چاہے ان کا سارا پول کھول دے۔ وہی بات یہاں دوسرے پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تم سے یہ مطالبہ کرسکتا ہے کہ اپنا سارا مال لیا اس کا بہت بڑا حصہ اس کے حوالہ کر دو اس لئے کہ یہ مال اسی کا عطا کردہ ہے لیکن وہ ایسا اس لئے نہیں کرتا کہ اس طرح کے امتحان سے ان لوگوں کا سارا بھرم کھل جائے گا جن کی بخالت اور نفاق پر ابھی پردہ پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس کریمی کے شکر گزار بنو کہ اس نے تمہیں اس قسم کے کسی کڑے امتحان میں نہیں ڈالا اور نہ وہ چاہے تو ابھی تمہارے چہرے کی نقاب نوچ کر پھینک دے۔