Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 47. Muhammad · Ayah 38

  1. هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ع﴿38﴾

    1. هٰٓاَنْتُمْیہ تم ہو
    2. هٰٓؤُلَآءِہاں ! وہ لوگ
    3. تُدْعَوْنَتمہیں پکارا جاتا ہے
    4. لِتُنْفِقُوْاکہ تم خرچ کرو
    5. فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚاللہ کے راستے میں
    6. فَمِنْكُمْپھر تم میں سے
    7. مَّنْکوئی ایسا ہے کہ
    8. يَّبْخَلُ ۚبخل کرتا ہے
    9. وَمَنْاور جو
    10. يَّبْخَلْبخل کرتا ہے
    11. فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں
    12. يَبْخَلُوہ بخل کرتا ہے
    13. عَنْ نَّفْسِهٖ ۭاپنے آپ سے
    14. وَاللّٰهُاور اللہ
    15. الْغَنِيُّبےنیاز
    16. وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚاور تم محتاج (جمع)
    17. وَاِنْاور اگر
    18. تَتَوَلَّوْاتم روگردانی کروگے
    19. يَسْتَبْدِلْوہ بدل دے گا
    20. قَوْمًادوسری قوم
    21. غَيْرَكُمْ ۙتمہارے سوا
    22. ثُمَّپھر
    23. لَا يَكُوْنُوْٓاوہ نہ ہوں گے
    24. اَمْثَالَكُمْتمہارے جیسے
Translation · Tadabbur-e-Quran
آگاہچ تم وہ لوگ ہو کر تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بجیلی کرتے ہیں اور جو بجیلی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ وہ اپنے ہی سے بخیلی کرتا ہے، اللہ بالکل بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ھانتم ھولاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ، طو اللہ الغنی وانتم الفقرآء وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکوانوآء امثالکم 38 بخیلوں کو دھمکی ھانتم ھولاء کے اسلوب کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے یہ ان منافقین کے حال پر افسوس اور حسرت کا اظہار ہے کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کی جو دعوت دی جاتی ہے تو تم بخالت کر رہے ہو گو یا کسی اور کر دے رہے ہو حالانکہ خدا سے بخالت کرنا خود اپنے سے بخالت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم سے مانگتا ہے تو اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی لئے مانگتا ہے کہ وہ اس کے صلہ میں تم کو ابدی بادشاہی بخشے اللہ بالکل بےنیاز ہے، محتاج اگر ہو تو تم ہو، اللہ محتاج نہیں ہے۔ وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا امثالکم یہ ان منافقین کو دھمکی ہے کہ تہاری یہ روش ارتداد کی روش ہے۔ اگر تم ارتداد کی راہ اختیار کرنی چاہتے ہو تو جائو کرو۔ اللہ کو تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ تمہاری جگہ دوسروں کو اپنے دین کی خدمت کے لئے اٹھائے گا جو تمہاری طرح ہیز اور نکمے نہیں ہوں گے۔ سورة مائدہ میں یہی بات اسی قسم کے منافقین کو خطاب کر کے یوں فرمائی گئی ہے۔ یا یھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکفرین 54 (اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ! جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہوجائیں گے تو برگشتہ ہوجائیں اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کریں گے، وہ اہل ایمان کے لئے نرم خاہ اور کفار پر گراں ہوں گے۔) سورة مائدہ کی اس آیت کی روشنی میں ثم لایکونوا امثالکم کے اجمال کی وضاحت کیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم تو اللہ سے عناد رکھنے والے اور اس کی رضا طلبی سے بیزار ہو اس وجہ سے خدا بھی تم سے بیزار ہے۔ تمہارے برعکس وہ اللہ سے محبت کرنے والے اور اس کی رضامندی کے طالب ہوں گے اس وجہ سے اللہ بھی ان سے محبت کرے گا۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم کفار کے لئے بہت ہی نرم چارہ ہو، تم ان سے دوستی کے طالب ہو اور وہ تم کو جس طرح چاہتے ہیں اپنے افراض کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ برعکس اس کے وہ اہل ایمان کے لئے تو بیشک نہایت ہی کریم اور نیک خو ہوں گے لیکن کفار اگر ان کے اندر انگلی دھنسا نے اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کو پتھر کی چٹان پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی توفیق بخشی سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک رحمان آباد 9 ستمبر 1976 ء، 13 رمضان المبارک 1396 ھ