Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 107

  1. فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿107﴾

    1. فَاِنْپھر اگر
    2. عُثِرَخبر ہوجائے
    3. عَلٰٓياس پر
    4. اَنَّهُمَاکہ وہ دونوں
    5. اسْتَحَقَّآدونوں سزا وار ہوئے
    6. اِثْمًاگناہ
    7. فَاٰخَرٰنِتو دو اور
    8. يَقُوْمٰنِکھڑے ہوں
    9. مَقَامَهُمَاان کی جگہ
    10. مِنَسے
    11. الَّذِيْنَوہ لوگ
    12. اسْتَحَقَّحق مارنا چاہا
    13. عَلَيْهِمُان پر
    14. الْاَوْلَيٰنِسب سے زیادہ قریب
    15. فَيُقْسِمٰنِپھر وہ قسم کھائیں
    16. بِاللّٰهِاللہ کی
    17. لَشَهَادَتُنَآکہ ہماری گواہی
    18. اَحَقُّزیادہ صحیح
    19. مِنْسے
    20. شَهَادَتِهِمَاان دونوں کی گواہی
    21. وَمَااور نہیں
    22. اعْتَدَيْنَآہم نے زیادتی کی
    23. اِنَّآبیشک ہم
    24. اِذًااس صورت میں
    25. لَّمِنَالبتہ۔ سے
    26. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اگر پتہ چلے کہ یہ دونوں کسی حق تلفی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو ان میں سے کھڑے ہوں جن کی مقدم گواہوں نے حق تلفی کی ہے پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ راست ہے اور ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا ہے، اگر ہم نے ایسا کیا ہے تو ہم ظالم ٹھہریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓي اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ يَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيٰنِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَآ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَآ ڮ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ عثر عثرا و عثورا علی السر کے معنی ہیں وہ راز سے آگاہ ہوا۔ اولیان، ادنی کا مثنی ہے جس کے معنی احق کے ہیں، ان الی الناس بابراہیم الاولیان، یعنی الاولیا بالشہادۃ، شہادت کے زیادہ حق دار، ان سے مراد مردا وہ دونوں گواہ ہیں جو وصیت کے ابتدائی گواہ بنائے گئے۔ چونکہ اپنے منصب کے اعتبار سے گواہی کے اصل حق دار وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اولیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یہاں اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جب وہ اولی بالشہادۃ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اس منصب کی لاج رکھیں اور کسی ایسی بدعنوانی کے مرتکب نہ ہوں کہ اولی بالشہادۃ ہوتے ہوئے بھی ان کی شہادت دوسروں کی قسم سے باطل ہوجائے۔ یہ ان گواہوں پر ایک مزید احتساب اور چیک ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ بات علم میں آئے کہ انہوں نے وصیت کرنے والے کی وصیت کے خلاف کسی کی جانب داری یا کسی کی حق تلفی کی ہے تو جن کی حق تلفی ہوئی ہے ان میں سے دو آدمی اٹھ کر قس کھائیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں الی بالشہادت گواہوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ ہم نے ذرا بھی حق سے تجاوز نہیں کیا ہے، اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم ظالموں میں سے ٹھہریں۔