Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 15

  1. اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ع﴿15﴾

    1. اَفَعَيِيْنَاتو کیا ہم تھک گئے
    2. بِالْخَلْقِپیدا کرنے سے
    3. الْاَوَّلِ ۭپہلی بار
    4. بَلْبلکہ
    5. هُمْوہ
    6. فِيْ لَبْسٍشک میں
    7. مِّنْسے
    8. خَلْقٍ جَدِيْدٍپیدا کرنا ازسر نو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے ! بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کئے جانے کے باب میں مبتلائے شک ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قوم تبع کا ذکر سورة خان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ افعیینا بالخلق الاول ط بل ھم فی لبس من خلق جدید 15 نقاش نقش ثانی بہتر کشد زاول اوپر کی آیات 11-6 میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے سے نمایاں ہے اور مقصود اس سے جیسا کہ ہم نے اوپر شا ارہ کیا، ان لوگوں کو قائل کرنا تھا جو مرنے کے بعد از سر نو اٹھا کھڑے کئے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ یہ انہی لوگوں کے سامنے سوال رکھا ہے کہ یہ لوگ ہمارے آسمانوں اور ہماری زمین کو دیکھ کر بتائیں کہ کیا پہلی بار ہم ان کو بنانے سے عاجز رہے۔ اعیی بالامر کے معنی کی وضاحت اہل لغت نے اذا لم یھتذنوجہ عملہ کے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی کوئی شخص ایک کام کرنے سے عاجز رہ جائے۔ اس کی مسجھ میں نہ آئے کہ یہ کس طرح انجام دیا جائے۔ بل ھم فی لبیس من خلق جدید یعنی یہ لوگ یہ کہنے کی جرأت تو نہیں کرسکتے کہ ہم پہلی بار آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ ان کو اعتراف ہے کہ آسمان اور زمین کے خالق ہم ہی ہیں۔ البتہ ان کو اس باب میں تردد رہے کہ از سر نو ہم ان کو نہیں پیدا کرسکیں گے ! میرے نزدیک اس جملہ کا انداز طنزیہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں رکاوٹ پیش آئے گی ! ان لال بچھکڑوں سے کوئی پوچھے کہ کس چیز کو پہ بار بنانا مشکل ہوتا ہے یا دوسری بار اگر ایک نقاش نقش ثانی نقش اول کے مقابل میں زیادہ بہتر کھینچ سکتا ہے تو ہم دنیا کو از سر نو زیادہ آسانی سے کیوں نہیں پیدا کرسکتے۔