Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 21

  1. وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ﴿21﴾

    1. وَجَآءَتْاور آئیگا (حاضر ہوگا )
    2. كُلُّہر
    3. نَفْسٍشخص
    4. مَّعَهَااس کے ساتھ
    5. سَآئِقٌایک چلانے والا
    6. وَّشَهِيْدٌاور ایک گواہی دینے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ جان اس طرح حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وجآءت کل نفس معھا سائق وشھید (21) یہ نفح صور کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اس دن ہر جان اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے اس طرح حاضر کی جائے گی کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے سے اس کو ہانکنے کے لئے مامور ہوگا اور دوسرا اس کے قوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے یہی مفہوم آیت سے متبادر بھی ہوتا ہے اور یہی سلف سے منقول بھی ہے۔ عض لوگوں نے سائق اور شھید دونوں سے ایک ہی فرشتہ مراد لیا ہے کہ وہی ہانک کر لائے گا بھی اور وہی گواہی بھی دے گا۔ بعض لوگوں نے سائق سر فرشتہ کو مراد لیا ہے لیکن شھید سے آدمی اور اس کے عمل کو یہ دونوں قول ہمارے نزدیک کمزور ہیں۔ پہلا عربیت کے پہلو سے کمزور ہے اور دوسرے میں صریح تکلف ہے جس سے آیت کے الفاظ اباء کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے انہی دونوں فرشتوں کو مراد لیا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا ہے لیکن یہ بات بھی کمز ور معلوم ہوتی ہے۔ یہ دونوں فرشتے، آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ آدمی کے اقوال و اعمال لکھنے پر مامور ہوتے ہیں۔ اگر انہی کو خدا کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے آدمی کو حاضر کرنا بھی ہے تو دونوں کی ایک ہی حیثیت ہونی چاہئے۔ یعنی دونوں گواہ کی حیثیت سے پیش ہوں۔ اس بات کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جب دونوں مامور ایک ہی حیثیت سے تھے تو ایک کی حیثیت تبدیل کیوں ہوجائے گی ؟ بہرحال ان میں سے کوئی قول بھی ضعف سے خالی نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ سے جو بات نکلتی ہے وہ وہی ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا کہ نفخ صور کے بعد ہر شخص کی پیشی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اس طرح ہونی ہے کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے پیچھے اس کو ہانکنے کے لئے ہوگا اور دوسرا اس کے آگے آگے تمام اقوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے۔