Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 23

  1. وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ﴿23﴾

    1. و َقَالَاور کہے گا
    2. قَرِيْنُهٗاس کا ہم نشین
    3. ھٰذَا مَا لَدَيَّیہ جو میرے پاس
    4. عَتِيْدٌحاضر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کا ساتھی کہے گا، یہ جو میری تحویل میں تھا، حاضر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقال قرینہ ھذا مالدی عتید 23 جرم کی پیشی عدالت میں قرینہ دلیل ہے کہ قرین سے مراد انہی دو میں سے کوئی ایک ہے جو سآئق اور شھید کی حیثی سے اس کو لے کر عدالت الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے اس شیطان کو مراد لیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے والے پر مسلط کردیا جاتا ہے، لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ یہ شیطان نہ تو کسی کے بارے میں یہ کہہ سکنے کے پوزیشن میں ہوگا کہ یہ شخص جو میری تحویل میں تھا حاضر ہے اور نہ وہ اس دن کسی کو بہکانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے گا۔ آگے اس کا وقل آ رہا ہے کہ جب اس کے جال میں پھنسے ہوئے لوگ اپنی گمراہی کی ذمہ داری اس پر ڈالنی چ ہیں گے تو وہ صاف اعلان برأت کرے گا ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید (ق، 27) (اے ہمارے رب ! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود نہایت دور کی گمرایہ میں پڑا ہوا تھا) اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے انہی دو میں سے کوئی ایک مراد ہے۔ یہ سوال کہ ان میں سے کون مراد ہے تو اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ اس سے شہید بھی مردا ہوسکتا ہے اور سائق بھی اس لئے کہ یہ بات دونوں ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو میری تحویل میں تھا، حاضر ہے۔ چناچہ اصحاب تاویل نے اس میں اختلاف کیا بھی ہے۔ میرا رجحان اس طرف ہے کہ یہ بات سآئق کہے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ مجرم اصلاً چارج میں اسی کے ہوگا اور اسی پر یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس کو عدالت میں پیش کرے۔ چناچہ جب وہ اس کو عدالت میں حاضر کر دے گا تو ایک فرض شناس سپاہی کی طرح اپنے فرض سے سبک دوشی کا اظہار ان ال فاظ میں کرے گا کہ ھذا مالدی عتید (یہ جو میری تحویل میں ہے، حضور کے سامنے حاضر ہے !)