تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 32
هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ﴿32﴾
- ھٰذَایہ
- مَاجو
- تُوْعَدُوْنَتم سے وعدہ کیا جاتا تھا
- لِكُلِّ اَوَّابٍہر رجوع کرنے والے کیلئے
- حَفِيْظٍنگہداشت کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حدود الٰہی کی حفاظت کرنے والے کے لئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32)
ۃ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات :607-606
یعنی جنت کو قریب لا کر ان الفاظ کے ساتھ اہل جنت کو اس میں داخل ہونے کا پروانہ دیا جائے گا کہ یہ ہے وہ صلہ جس کا آپ لوگوں سے دنیا میں نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس وعدے کا ایفاء ہو رہا ہے۔ مضارع سے پہلے عربیت کے قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے، یعنی ماکنتم توعدون ھذا سے اشارہ اسی جنت کی طرف ہے لیکن یہاں عربیت کے قاعدہ کے مطابق اس سے علی سبیل التاویل صلہ اور انعام مراد ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
لکل اواب حفیظ یہ اہل جنت کے اس کردار کا بیان ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار ٹھہرائے گئے اوپر اہل دوزخ کا کردار آیات 27-5 میں بیان ہوچکا ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے اب یہ اس کے مقابل میں مستعقین جنت کا کردار بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنے رب کی طرف برابر رجوع رکھنے والے، اس کے حدود وقیوم کی حفاظت کرنے والے تھے۔ ان دونوں صفتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے ایک کا تعلق دل سے ہے اور دوسری کا تعلق عمل سے۔ اگر آدمی کا دل زندہ و بیدار ہو تو زندگی کے تمام ہنگاموں کے اندر اس کا دل برابر اپنے رب کی طرف رجوع رہتا ہے کسی وقت بھی اس پر ایسی غفلت یا سرکشی کی حالت طاری نہیں ہوتی کہ اسے خدا کے حدود و محارم کا بھی کچھ ہوش نہ رہے اور وہ ان کو توڑ تاڑ کے رکھ دے۔ نفس کسی کسی اکساہٹ کے باعث اگر اس سے کبھی تجاوز صادر ہوجاتا ہے تو اس کا دل فوراً متنبہ ہوتا ہے اور وہ توبہ و استغفار کے ذریعے سے پھر اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتا ہے۔ ان دو لفظوں کے اندر ایک صحیح مومن کا باطن و ظاہر دونوں بیان ہوگیا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ ایک باوفا مومن ہونے کے لئے ترک دنیا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس کار زار حیات میں رہتے ہوئے اپنے اواب و حفیظ ہونے کو ثابت کرے۔ یہ امر بھ یادر کھیے کہ اسلام میں ہر شخص کے لئے شب و روز میں پانچ مرتبہ مسجد کی حاضری اسی اوابیت کو زندہ رکھنے کے لئے ہے۔ اس طرح گویا مومن اپنے مرکز ثقل سے وابستہ رہتا ہے اور شیطان اس پر کبھی اتن اقابو نہیں پاتا کہ اس کو فواحش و منکرات میں مبتلا کر دے۔ ان الصلوۃ تنھی عن العشآء و المنکر (العنکبوت 45)