تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 33
مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ﴿33﴾
- مَنْجو
- خَشِيَڈرا
- الرَّحْمٰنَرحمٰن (اللہ) سے
- بِالْغَيْبِبن دیکھے
- وَجَآءَاور آیا
- بِقَلْبٍدل کے ساتھ
- مُّنِيْبِۨرجوع کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو خدائے رحمان سے ڈرا غیب ہیں اور حاض رہوا متوجہ رہنے والے دل کے ساتھ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
من خشی الرحمٰن بالغیب وجآء بقلب منیب (33)
اوپر مستحقین دوزخ کے بارے میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ وہ درباب قیامت مبتلائے شک رہے اور اللہ کے مقابل میں انہوں نے دوسرے سہارے بنا لئے۔ وہاں ہم نے بیان کیا ہے کہ یہی دونوں چیزیں درحقیقت ام الامراض کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں اس کے مقابل میں اہل جنت کے باب میں فرمایا کہ یہ اس قسم کے کسی وہم میں نہیں مبلا ہوئے بلکہ غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے رہے اور چونکہ انہوں نے خدا کے سوا کوئی اور سہارا تلاش نہیں کیا اس وجہ سے اپنے رب کے حضور میں ایک ایسے دل کے ساتھ حاضر ہوئے جس کی ساری توجہ اپنے رب ہی کی طرف رہی اس لئے کہ ان کی ساری ساری امیدیں اسی سے وابستہ تھیں، کسی اور سے انہوں نے کو نہیں لگائی۔
دین کی ایک عظیم حکمت
من خشی الرحمٰن میں خدا کی صفت رحمن کا حوالہ دین کی ایک عظیم حکمت کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ بالآخر ایک ایسا دن بھی لائے لائے جس میں ان لوگوں کو جزا دے جنہوں نے اس دنیا میں ایک اواب اور حفیظ، کی زندگی گزاری اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے کفار اور عثید، بن کر اس میں دھاندلی مچائی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نعوذ باللہ نیکی اور بدی، ظلم اور عدل دونوں اس کی نگاہوں میں یکساں ہیں۔ درآنحالیکہ یہ بات اس کی رحمانیت و رحیمیت کے بالکل منافی ہے۔ چناچہ دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا یہ لازمی تقاضا بیان فرمایا ہے کہ وہ قیامت کا دن ضرور لائے گا۔ کتب علی نفسہ الرحمۃ ط لیجمعنمکم الی یوم القیمۃ (الانعام :12) (اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے کہ وہ تم کو ضرور قیامت کے دن کے لئے جمع کر کے رہے گا) اہل ایمان چونکہ اپنے رب کی اس صفت اور اس کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھتے رہے اس وجہ سے انہوں نے قیامت کو اٹل حقیقت سمجھا اور اس کے لئے برابر بیدار رہے۔
بالغیب میں ب ظرفیہ ہے۔ منکرین قیادت کے باب میں تو اوپر ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن ان کے سامنے جب حقائق آشکارا ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید“ (ق :22) (تم اس دن سے غفلت میں رہے تو ہم نے تمہاری نگاہوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا تو آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں اس کے برعکس ان اہل ایمان کا حال یہ رہا کہ اسی دنیا میں رہتے اور آخرت کے حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کئے بغیر مجرو آفاق وانفس کے دلائل اور نبیوں کی تعلیم کی بنا پر وہ آخرت کو مانتے اور اپنے رب سے ڈرتے رہے۔
قلب منیب، سے مراد وہ دل ہے جو رنج و راحت اور امید ہر حال میں اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہا۔ کسی حال میں بھی اپنے رب سے منہ موڑ کر کسی اور سے اس نے لو نہیں لگائی۔