Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 36

  1. وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ﴿36﴾

    1. وَكَمْاور کتنی
    2. اَهْلَكْنَاہلاک کیں ہم نے
    3. قَبْلَهُمْان سے قبل
    4. مِّنْ قَرْنٍامتیں
    5. هُمْ اَشَدُّوہ زیادہ سخت
    6. مِنْهُمْان سے
    7. بَطْشًاپکڑ میں
    8. فَنَقَّبُوْاپس کریدنے (گشت کرنے) لگے
    9. فِي الْبِلَادِ ۭشہروں میں
    10. هَلْکیا
    11. مِنْسے (کہیں)
    12. مَّحِيْصٍبھاگنے کی جگہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کتنی ہی قومیں ہم نے ہلاک کر چھوڑیں ان سے پہلے جو قوت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں تو جس کا دھر سینگ سمایا ادھر کو، ملکوں میں، چل کھڑا ہوا کہ ہے کوئی پناہ کی جگہ !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-4 آگے آیات 45-36 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے قریش کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنی موجودہ قوت و صولت کے غرے میں خدا سے لڑنے کی جسارت نہ کرو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جو قوت و صولت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوئی ہیں لیکن جب خد نے ان کو پکڑا تو وہ اپنے کو بچا نہ سکیں۔ اگر تمہارے پاس سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہیں تو ان کی سرگزشتوں میں تمہارے لئے بڑا دسر عبرت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ مخالفین جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ یا مت شدنی ہے۔ ہم آسمان و زمین کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ نہ زندہ کرسکیں گے۔ پس کان لگائے ہی رکھو۔ وہ دن آ ہی رہا ہے جب خدا کا منادی پکارے گا اور سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ پس صبر کرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ تمہاری ذمہ داری ولگوں کو مومن بنا دینا نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس قرآن کے ذریعہ سے ان لوگوں کو ہماری وعید سے آگاہ کردینا ہے جو آگاہ ہونا چاہیں … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وکم اھلکنا من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد ط ھل من محیض 36 قریش کو تنبیہ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، اپنی جگہ سے ہلائے نہیں جاسکتے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزری ہیں جو قوت و عظمت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان میں سے اگر کچھ ہلاک ہونے سے بچ بھی رہے تو وہ مختلف ملکوں میں، جدھر جس کا سینگ سمایا، وہ ادھر کو کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔ نب فی الارض کے معنی ہیں سارفیھا طلب للمھرب، (اور وہ زمین میں کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا) ھل من معیص ان کے چل کھڑے ہونے کے متحرک کا بیان ہے کہ سر چھپانے کی جگہ کی تلاش میں جدھر کو جس کا منہ اٹھا وہ ادھر ہی کو چل کھڑا ہوا۔ جب کسی قوم پر تباہی آتی ہے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے۔ قوم کے کارفرما عناصر، جو سارے فساد کے ذمہ دار ہوتے ہیں، وہ تو تباہ ہوجاتے ہیں، عوام میں سے جو بچ رہتے ہیں وہ قومی جمعیت کے پارہ پارہ ہوجانے کے بعد پراگندہ ہو کر جس کو جہاں پناہ ملنے کی توقع ہوتی ہے وہ اسی طرف کا رخ کرلیتا ہے۔ قوموں کی تباہی کی مختلف صورتیں قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سیبعض تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کی پوری عذاب الٰہی سے تباہ ہوگئیں، مثلاً قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ، بعض قوموں کا حال یہ ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو تباہ ہوگئے، رہے ان کے اتباع و عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ وہ خود تو اپنے اعیان اور پوری فوج سمیت دریا میں غرق کردیا گیا۔ باقی جو پیچھے رہئے تھے وہ حکومت کی تباہی اور اپنے حریفوں کے ڈر سے پناہ کی تلاش میں تتر بتر ہوگئے۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو اس سیلاب ہی کی تدر ہوگئے جو ان پر آیا۔ جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر اور معاشی حالت بالکل ابتر ہوجانے کے باعث مجبور ہوئے کہ پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کریں۔ یہود پر جو تباہیاں آئیں ان کی نوعیت بھی یہی تھی۔ جو قتل و نہب سے بچ وہ دنیا کے کونے کونے سے میں آوارہ ہو کر پھرے خود ہماری تاریخ میں بھی اس کی نہایت عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ بغداد پر، قرطبہ پر، دلی پر جو تباہیاں آئیں کیا ان کے احوال تاریخ میں مذکور نہیں ہیں ؟ ان کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں صرف قریش ہی کو تنبیہ نہیں ہے بلکہ خود ہمارے لئے بھی اس میں بڑا درس ہے بشرطیکہ ہم اس سے سبق حاصل کریں ! ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں نے نقبوا فی البارد کے یہ معنی لئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور عروج میں اپنی فاتحانہ ترک تازیوں سے دنیا کا کونا کونا چھان مارا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ لفظ تنقیب، عربی میں فاتحانہ جو لانیوں کے لئے نہیں آتا بلکہ ڈر اور خوف سے، جائے پناہ کی تلاش میں، زمین میں نقب لگانے کے لئے آتا ہے۔ اہل لغت نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ اوپر ہم اس کا حوالہ دے چکے ہیں۔ کلام عرب کے شواہد سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے اور بعد کا ٹکڑا ھل من محیص نہایت واضح طور پر اس معنی کے حق میں ہے۔ ورنہ یہ جملہ بالکل بےمحل ہو کر رہ جائے گا۔