تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 37
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ﴿37﴾
- اِنَّ فِيْ ذٰلِكَبیشک اس میں
- لَذِكْرٰىنصیحت
- لِمَنْاسکے لئے جو
- كَانَ لَهٗہو اس کا
- قَلْبٌدل
- اَوْ اَلْقَىیا ڈالے (لگائے)
- السَّمْعَکان
- وَهُوَ شَهِيْدٌاور وہ متوجہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی یاددہانی ہے جن کے پاس دل ہو یا وہ بات سننے کے لئے کان لگائیں، متوجہ ہو کر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب اوالقی السمع وھو شھید 37
قریش کو تنبیہ اور آنحضرت کو تسلی
ذلک کا اشارہ انہی قوموں کی سرگزشت کی طرف ہے جن کا بالاجمال اوپر کی آیت میں حوالہ دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان قوموں کی سرگزشت میں کافی سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ عبرت حاصل کرنے والے دل اور بات کو توجہ کے ساتھ سننے والے کان ہوں۔
لفظ قلب اپنے حقیقی یعنی دل زندہ کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کو احساس کرنے عبرت حاصل کرنے اور سوچنے سمجھنے کے لئے بنایا ہے۔ جب تک آدمی کا دل یہ کام کرتا ہے اس وقت تک اس کا دل زندہ ہے اور جب تک دل زندہ ہے اس وقت تک آدمی بھی زندہ ہے۔ اس لئے کہ آدمی کی حقیقی زندگی اس کے دل کی زندگی ہی سے ہے۔ اگر دل یہ خصوصیات کھو بیٹھا تو پھر آدمی بھی مردہ ہے اگرچہ اس کی رگوں میں کتنا ہی خون دوڑتا پھرتا ہو۔
اوالقی السمع وھو شھید یعنی اگر دل پوری طرح بیدار نہ ہو تو کم از کم اتنی بات تو انسان کے اندر ہو کہ کوئی معقول آدمی اس کو کوئی بات سنائے تو وہ اس کو توجہ سے سنے۔ یہ تو جہ بھی انسان کے لئے بڑی خیر و برکت کا باعث ہے۔ اس سے بھی بسا اقوات دل کی غفلت دور اور اس کی عبرت پذیری کی صلاحیت زندہ ہوجاتی ہے۔ لیکن جو شخص ایسا بدقسمت ہو کہ نہ اس کا دل ہی بیدار ہوا ورنہ وہ کسی معقول آدمی کی بات سننے ہی کے لئے اپنے کان کھولنے پر آمادہ ہو تو ایسے آدمی کے اندر کوئی معقول بات کدھر سے راہ پائے گی ؟
اگر سیاق کلام یہاں قیرش کو تنبیہ و ملامت کا ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کے لئے تسکین و تسلی بھی ہے کہ تم جو قرآن سنا رہے ہو اگر قریش کے لیڈروں کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نہ تو ان کے دلوں کے اندر اثر پذیری کی صلاحیت ہی ہے اور نہ یہ کان کھول کر تمہاری بات توجہ سے سننے ہی کے لئے تیار ہیں تو آخر تم اپنی بات کس طرح ان کے دلوں میں اتار سکتے ہو ؟