Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 38

  1. وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ﴿38﴾

    1. وَلَقَدْاور تحقیق
    2. خَلَقْنَاہم نے پیدا کیا
    3. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    4. وَالْاَرْضَاور زمین
    5. وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان دونوں کے درمیان
    6. فِيْمیں
    7. سِتَّةِ اَيَّامٍ ڰچھ دن
    8. وَّمَااور نہیں
    9. مَسَّنَاچھوا ہمیں
    10. مِنْکسی
    11. لُّغُوْبٍتکان نے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کو، چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب، صابر علی مایقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ومن الیل فسبحہ و ادبار السجود 40-38 نبی ﷺ کو صبر کی تلقین اب کلام کا رخ واضح طور پر نبی ﷺ کے لئے تسکین و تسلی اور تلقین صبر کے مضمون کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ ہم آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں تھک نہیں گئے ہیں کہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز رہ جائیں گے۔ اطمینان رکھو کہ جس دن سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ آ کے رہے گا۔ ان کی باتوں پر صبر کرو اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیاہ نماز کا اہتمام رکھو۔ فی متتہ ایام کا مطلب ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام آسمان و زمین کے چھ دنوں میں پیدا کئے جانے کا ذکر پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ایام سے یہاں مراد خدائی ایام ہیں اس وجہ سے یہ ادوار کے مفہوم میں ہیں۔ یہ بات بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی خلقت کا ذکر چھ دنوں کی قید کے ساتھ ہوتا ہے تو اس سے مقصود اس اہتمام کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے جو اس کائنات کی تخلیق میں ملحوظ ہے اور جو اس بات پر دلیل ہے کہ یہ دنیا تو کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آئی ہے نہ یہ کسی کھلنڈ رے کا کھیل تماشا ہے بلکہ یہ ایک بامقصد کارخانہ ہے اور اس کے بامقصد ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کی غایت واضح ہو۔ وما مسنا من لغوب یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو کہ چھ دن مسلسل کام کرنے کی وج ہ سے ہم کو تکان لاحق ہوگئی ہے اور اب دوبارہ اس دنیا کو پیدا کرنے کا حوصلہ ہم نہ کرسکیں گے۔ ہم جس طرح پہلے تازہ دم تھے اسی طرح اب بھی تازہ دم ہیں اور جس طرح پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز نہیں رہے اسی طرح دوبارہ پیدا کرنے سے بھی عاجز نہیں رہیں گے۔ اس فقرے کا انداز کچھ طنزیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی از سر نو خلقت کو بعید از امکان سمجھ رہے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ ہمارا دم خم اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلے تھا۔ اسمیں سر مو فرق نہیں آیا ہے۔ اس میں ضمناً یہود کے اس خیال پر بھی تعریض ہے جو تورات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔