تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 4
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ﴿4﴾
- قَدْ عَلِمْنَاتحقیق ہم نے جان لیا
- مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُاس کا بھی جو کمی کرتی ہے زمین
- مِنْهُمْ ۚان میں سے
- وَعِنْدَنَااور ہمارے پاس
- كِتٰبٌ حَفِيْظٌایک کتاب ہے محفوظ۔ حفاظت کرنے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے جان رکھا ہے جو کچھ زمین ان کے اندر سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قد علمنا ماتنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ 4
مخالفین کے شبہات کا جواب
فرمایا کہ دوبارہ زندہ کیا جانا اس وجہ سے ان کو بعید از امکان معلوم ہو رہا ہے کہ جسموں کے سڑ گل کر خاک میں مل جانے کے بعد ان کے اجزاء کو زمین کی تہوں سے فراہم کرنا۔ ان کے خیال میں، ناممکن ہے۔ یہ مغالطہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ جسم انسانی کے جن جزاء کو زمین تحلیل کرتی ہے، وہ ان سب کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ جس نے ہر چیز کو خلق کیا ہے اور جس کے حکم ہی سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہے، اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے ! الایعلم من خلق (الملک 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ؟) اور جب وہ جانتا ہے تو جب وہ چاہے گا ان تمام اجزاء کو فراہم کر کے ہر ایک کے جسم کو از سر نو مشکل کر دے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی دشواری نہیں پیش آئے گی۔ جس نے ہر چیز کو عدم محض سے وجود بخشا اور اس کو اس میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، مآخر دوبارہ اس کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کردینے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی ؟
وعندنا کتب حفیظ، یعنی اپنے ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ساراریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درج ہیں۔ نادانوں کو یا مت کے باب میں جس طرح یہ شبہ پیش آتا ہے کہ سڑ گل کر مٹی میں مل جانے کے بعد جسم انسانی کے اجزاء کو فراہم کرنا اور ان کو از سر نو جس مکی شکل میں مشکل کرنا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی پیش آتا ہے کہ ہر شخص کے ہر قول و فعل کا ریکارڈ کون محفوظ رکھ سکتا ہے کہ ایک دن وہ سب کا حساب کرنے اور سب کو سزا اور جزا دنیے بیٹھے ؟ اس ٹکڑے نے اس شب ہے کو بھی صاف کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے متام اقوال و اعمال کا ریکارڈ بھی ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔
یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ زمانہ جاہلی کے عربوں کے لئے تو اچنبھے کا ہوسکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو انشکفات کئے ہیں ان کو جانے کے بعد، اگر کوئی شخص قرآن کے اس دعوے میں شک کرے تو ایسے ہٹ دھرموں کو کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی قائل نہیں کرسکتی۔ یہ لوگ اس وقت مانیں گے جب ان کے ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے پکڑا دیئے جائیں گے، لیکن اس وقت کا ماننا بالکل بےسود ہوگا۔