تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 5
بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ﴿5﴾
- بَلْبلکہ
- كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
- بِالْحَقِّحق کو
- لَمَّاجب وہ آیا
- جَآءَهُمْان کے پاس
- فَهُمْپس وہ
- فِيْٓ اَمْرٍایک بات میں
- مَّرِيْجٍالجھی ہوئی
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا ہے جب کہ وہ ان کے پاس آچکا ہے۔ پس وہ ایک صریح تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج 5
لفظ ’ حق ‘ اسی سورة کی آیت 19 اور آیت 42 میں قیامت کے لئے آیا ہے لیکن یہاں لما جآء ھم کا قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے جو قیامت یس لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا لیکن لوگ اس کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لئے بہانہ کے طور پر قیامت کے خلاف وہ شبہات پیش کر رہے تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ان شبہات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا قیامت فی الواقع ایک بہت بعید از امکان چیز ہے اور یہ اس کا انکار جو کر رہے ہیں تو اس کے لئے معقول وجوہ ان کے پاس ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک بالکل بدیہی حق کی تکذیب کی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ ان کے سامنے بالکل واضح طور پر آگیا۔
لما جآء ھم سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن مجید جس قیامت کی خبر دے رہا ہے وہ حق تو پہلے بھی تھی لیکن اب تک یہ لوگ اس کے باب میں اگر گرفتار شبہات رہے تو ان کے پاس کچھ عذر بھی تھا کہ یہ قرآن و کتاب سے نا آشنا امی تھے لیکن اب وہ کیا عذر کرسکتے ہیں جبکہ وہ ایک ایسے حق کا انکار کر رہے ہیں جو نصف النہار کے سورج کی طرح ان کے سروں پر چمک رہا ہے !
مکذین قیامت کا تضاد فکر
فھم فی امر مریج، امر مریج، کی تشریح اہل لغنت، امر مختلط یا امر ملبتس، کے الفاظ سے کرتے ہیں، یعنی ایک ایسی صورت حال جس میں نہایت واضح قسم کا تناقض و تضاد ہو، مرج کے معنی خلط یعنی گڈ مڈ کردینے کے ہیں۔ سورة رحمان میں ہے۔ مرج البحرین یلتضین 19 (اس نے کھاری اور شیریں دونوں قسم کے دریا چھوڑے جو آپس میں ٹکراتے ہیں) قرآن کی تکذیب کر کے مکذبین جس صورتحال سے دوچار ہوئے یہ اس کی ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے کہ یہ لوگ ایک صریح قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہو کے رہ گئے تھے۔ ایک طرف یہ خدا اور اس کی ان تمام صفات کا اقرار کرتے ہیں جو قیامت کو لازم کرتی ہیں، دوسری طرف قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسی ذہن الجھن میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ ان کو سمجھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس الجھن سے نجات کی واحد راہ وہی ہے جو قرآن ان کو تبا رہا ہے، لیکن اس کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں حالانکہ حق کی تکذیب کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آدمی اپنی تکذیب کو جائز ثابت کرنے کے لئے جتنی دلیلیں ایجاد کرتا ہے وہ سب اس کے موقف کے بودے پن کو عریاں کرتی ہیں۔ قرآن نے ان کے اسی تضاد فکر کی طرف سورة ذاریات ہیں، جو اس کی قوام سورة ہے انکم لفی قسول مختلف (8) (بےشک تم لوگ ایک شدید قسم کے تناقض میں گرفتار ہو) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت سورة نمل کی آیت 66 بل ادرک علمھم فی الاخرۃ …الایۃ کے تحت ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لجییی۔
یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ انسان کی گمرایہ میں سب سے زیادہ دخل اس کے اسی تضاد فکر کو ہے یا تو وہ اپنی سہل انگاری کے سبب سے رطب دیا بس ہر قسم کے نظریات اپنے ذہن میں جمع کرلیتا ہے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں صحیح نظریات و عقائد کے ساتھ باطل نظریات بھی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی زندگی مجموعہ اضداد بن جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے افکار کا برابر جائزہ لیتا ہے، تنقید کی صلاحیت مردہ نہ ہونے دے، اور خواہشات نفس کی پیروی میں حق کے ساتھ باطل کا جوڑ ملانے کی کوشش نہ کیر تو وہ شیطان کے اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔