Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 40

  1. وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ﴿40﴾

    1. وَمِنَ الَّيْلِاور رات میں
    2. فَسَبِّحْهُپس اس کی پاکیزگی بیان کرو
    3. وَاَدْبَارَاور بعد
    4. السُّجُوْدِسجدوں (نماز)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رات میں بھی اس کی تسبیح کرو اور ستاروں کے ڈھلنے کے بعد
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شب کی نمازیں ومن الیل فسبحہ دن کی دو اہم نمازوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح شب میں حصہ میں تہجد۔ تہجد اگرچہ فرائض میں داخل نہیں ہے لیکن تربیت صبر کے پہلو سے سب سے زیادہ اہمیت اسی نماز کو حاصل ہے۔ اس کی وضاحت مختلف مقامات میں ہوچکی ہے اور سورة مزمل کی تفسیر میں، ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ ادباء السجود، کا صحیح مطلب ودبار السجود ادبار جمع ہے دبر کی جس کے معنی پیچھے کے ہیں۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ سجدوں کے بعد بھی اس کی تسبیح کرو۔ لیکن میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں سجود و مصدری معنی میں ہے اور اس سے مراد آفتاب کا سجود ہے جس کے طلوع و غروب کے قبل کی نمازوں کا ذکر اوپر والے ٹکڑے میں ہو چک ہے۔ یعنی جس طرح سورج کے طلوع و غروب سے پہلے نماز کے اوقات ہیں اسی طرح سورج کے سجود کے بعد بھی تسبیح کے اوقات ہیں، چونکہ سورج کا ذکر پہلے ہوچکا تھا اس وجہ سے دوبارہ اس کی تصریح کی ضرورت نہیں ہوئی۔ لفظ ادبار کا قرینہ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کافی تھا کہ یہاں اسی کے سجود کے بعد کی نماز کا ذکر ہے جس کے طلوع و غروب سے پہلے کی نمازوں کا ذکر پہلے ہوا ہے۔ اگر دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں و من الیل فسبحہ کے الفاظ نہ آگئے ہوتے تو بات کے سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آتی۔ اس صورت میں تالیف کلام یوں ہوتی کہ سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے اور اس کے سجود کے بعد کے اوقات میں تسبیح کرو۔ اس تالیف میں ہر شخص کا ذہن آسانی سے اس طرف منتقل ہوجاتا کہ سجود سے مراد سجود شمس ہے لیکن تالیف کلام یوں ہوتی تو اس سے حکمت دین کا ایک اہم نکتہ واضح نہ ہو سکتا جو اس آیت میں واضح فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ اس میں نمازوں کی ترتیب دین میں ان کی اہمیت و عظمت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے۔ یہ ترتیب مقتضی ہوئی کہ سب سے پہلے فجر کا ذکر آئے، اس کے بعد عصر کا، چناچہ قبل طلوع الشمس و قبل الغروب کے الفاظ سے ان دونوں کا ذکر ہوا اور ہم ذکر کر آئے ہیں کہ قرآن و حدیث دونوں میں ان نمازوں کی اہمیت پر خاص زور دیا یا ہے۔ اس کے بعد ومن الیل فسبحہ سے عشاء اور تہجد کی نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو شب کی نمازوں میں وہی اہمیت رکھتی ہیں جو دن کی نمازوں میں فجر اور عصر کی نمازوں کو حاصل ہے۔ اس کے بعد ادبارا السجود کے ا لفاظ سے ظہر اور مغرب کی نمازوں کی طرف اشارہ ہے جو دلوک الشمس اور سجود شمس کے اوقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 78 اقم الصلوۃ لدلوک الشمس کے تحت ہم سورج کے دلوک کے مختلف مراحل کی وضاحت کرچکے ہیں یہاں لفظ سجود ہے اور اس کے بھی مختلف درجے ہیں۔ سورج اور دوسرے کو اکب کے لئے جب یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے ان کے زوال اور غروب کے تمام مراحل مراد ہوتے ہیں۔ یہاں بھی یہ سارے ہی مراحل ہو سکتے ہیں۔ یعنی جب وہ سمت راس سے جھکتا ہے، جب وہ مرای العین سے نیچے آتا ہے، پھر جب وہ افق سے غائب ہوتا ہے۔ ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں انہی تین اوقات میں ہیں۔ یہاں عصر کی نماز کا ذکر، اس حکمت کے تحت، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، خاص اہمتمام کے ساتھ اوپر قبل الغروب کے الفاظ سے ہوچکا ہے اس وجہ سے دو نمازیں باقی رہ گئیں۔ ایک ظہر جو سورج کے سجود کے پہلے مرحلے کے بعد ہے اور دوسری مغرب جو اس کے سجود کے آخری مرحلے کے بعد ہے۔ گویا اس آیت میں ان تمام اوقات کی طرف اشارہ ہے جن میں ہماری پانچویں نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی تعلیم سے انہی اقوات کی ضابطہ بندی فرما دی۔ یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہم ہر جگہ اس کیوضاحت کرتے آ رہے ہیں، یہاں نظائر نقل کرنے میں طوالت ہوگی۔ قارئین کے اطمینان کے لئے صرف ایک آیت سورة طلہ کی ہم نقل کرتے ہیں جس میں یہ سارا مضمون نہایت واضح الفاظ میں آگیا ہے۔ فرمایا ہے۔ فاصبر علی مایقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا ومن انآی الیل فسبح و اطراف النھار (30) پس جو کچھ یہ کہت یہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہو اس کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے اطراف میں۔ اطراف النھار کے الفاظ کے مضمرات کی واضحت سورة طلہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ 2 اطراف النھار کے الفاظ کے مضمرات کیو احضت سورة طہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ 2