تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 41
وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿41﴾
- وَاسْتَمِعْ يَوْمَاور سنو جس دن
- يُنَادِ الْمُنَادِپکارنے والا پکاریگا
- مِنْ مَّكَانٍجگہ سے
- قَرِيْبٍقریب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کان لگائے رکھو جس دن منادی بہت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب 41
قیامت کے منادی کی صدا کے لئے ہر لمحہ کان لگائے رکھو
استمعاع کے معنی توجہ سے کان لگائے رکھنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس دن کو جھٹلاتے
1 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات 774-773
-2 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد چہارم صفحات 245-244
ہیں تو جھٹلانے دو تم ان کی باتوں کی پروا نہ کرو۔ بلکہ اس منادی کی آواز سننے کے لئے برابر کان لگائیر کھو جو نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔ اس منادی سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید کے الفاظ سے ہوچکا ہے۔ من مکان قریب سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آج تو ان غافلوں کو یہ باتیں بہت دور کی اور نہایت ہی بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں لیکن اس دن ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ گویا اس کے کانوں ہی میں پکارا جا رہا ہے۔ یہ اسلوب کلام بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح سورة دخان میں فار تقب یوم تاتی السمآء 10 ہے۔ اس سے مقصود ایک تو واقعہ کی قطعیت اور اس کی ہولناکی کا اظہار ہے۔ دور سے اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے کہ اس کے ظہور کا وقت آیا ہی سمجھو، معلوم نہیں کب منادی پکار دے۔
آیت میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور یہ خطاب نہایت بلیغ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر یہ بلید لوگ اس عظیم ساعت سے نچنت ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو تم ہر لمحہ اس کے ظہور کے انتظار ہی میں رہو۔ قیامت کے معاملے میں ایک عاقل کو جس طرح چوکنا رہنا چاہئے یہ آیت اس کی صحیح تصویر ہے۔ اوپر آیت 19 میں یہ مضمون بیان ہوچکا ہے کہ اس کو ہر شخص اپنے سر پر کھڑی ہی سمجھے۔ یہ ہر آدمی کی موت کے ساتھ ہی لگی ہوتی ہے اور موت نہ معلوم کس گھڑی آدھمکے نادان ہیں وہ لوگ جو اس کے بہت بعد سمجھتے ہیں۔