تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 39
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ﴿39﴾
- فَاصْبِرْپس صبر کرو
- عَلٰيپر
- مَا يَقُوْلُوْنَجو وہ کہتے ہیں
- وَسَبِّحْاور پاکیزگی بیان کرو
- بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
- رَبِّكَاپنے رب کی
- قَبْلَقبل
- طُلُوْعِطلوع
- الشَّمْسِسورج کا
- وَقَبْلَاور قبل
- الْغُرُوْبِغروب ہونے سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہو، اس کی حمد کے ساتھ، سورج کے
طلوع او اس کے غروب سے پہلے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاصبر علی مایقولون یہ نبی ﷺ کو تلقین صبر ہے کہ یہ جو کچھ تمہاری تکذیب میں کر رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مایقولون سے اشارہ مکذبین کی اسی طرح کی باتوں کی طرف ہے جس کی ایک مثال آیات 3-2 میں گزر چکی ہے۔ فقال الکفرون ھذا شیء عجیبۃ واذا متنا وکنا تراباً ذلک وجع بعید (3-2) (تو کافروں نے کہا یہ تو نہایت عجیب تا ہے ! کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گییہ لوٹایا جانا تو نہایت مستبعد ہے ! !) مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا جو اللہ نے اس اہتمام سے پیدا کی ہے وہ لازماً اپنی غایت کو پہنچ کر رہے گا۔ ہم اس کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے ہیں کہ اس کو دوبارہ نہ پیدا کرسکیں لیکن جو لوگ دل کے اندھے ہیں وہ اس حقیقت کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس طرح کے لوگوں کی مخالفت پر تمہیں بہرحال صبر کرنا ہے تو صبر کرو تاآنکہ ان کے سامنے حقیقت اس طرح ظاہر ہوجائے کہ انکار کی گوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
حصول صبر کی تدبیر
وسبح بحمدربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب یہ صبر حاصل کرنے کی تدبیر بتائی ہے کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ نماز کا اہتمام رکھو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرے تعلق کے بغیر وہ صبر پیدا نہیں ہوسکتا جو مخالفوں کی مخالفت کے علی الرغم آدمی کے قدم جادہ حق پر استوار رکھ سکے۔ اسی حقیقت کی طرف دوسری جگہ لوں اشارہ فرمایا ہے کہ وما صبرک الاب اللہ، (النحل :127) (اور تم صبر نہیں کرسکتے مگر اللہ کی استعانت سے) اللہ تعالیٰ سے استعانت کا واحدذریعہ نماز ہے اس وجہ سے نبی ﷺ کو مخالفوں کے مقابل میں جہاں جہاں صبر کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہاں نماز کے اہتمام کی تاکید ضرور فرمائی گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی جگہ جگہ گزر چکی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی نہایت واضح اور موثر مثالیں آئیں گی۔
سبح بحمد ربک یہ نماز کی تعبیر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے پہلو سے ہے۔ یہ ذکر دو عنصروں سے مرکب ہے۔ ایک تسبیح، دوسرا حمد، تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے پاک وم نزہ قرار دنیا جو اس کی شان کے منفای ہیں۔ حمد میں اثبات کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس کو ان صفات سے متصف قرار دینا جو اس کے شایان شان ہیں۔ یہ نفی اور یہ اثبات دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے صحیح توصر کو دل میں راسخ کرتے ہیں اور اسی رسوخ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے جو تمام صبر و توکل کی بنیاد ہے۔ اگر انکے اندر کسی ہپول سے کوئی ضعف یا عدم تواز نپیدا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آدمی کا تصور غلط ہوجاتا ہے اور یہ غلطی اس کے سارے نظام فکر و عمل کو بالکل درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔
اوقات نماز اور ان کی حکمت
قبل طلوع الشمس و قبل الغروب، ومن الیل فسبحہ وادبار السجود یہ ان خاص خاص اوقات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح خاص اہتمام سے مطلوب ہے۔ یوں تو اللہ کی یاد ہر وقت زندگی بخش ہے، اس کی یاد ہی سے دل زندہ اور اضحا و مطمئن رہتا ہے لیکن اس دنیا کے دوسرے کاموں میں جس طرح اوقات اور فصلوں و موسموں کا اعتبار ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادات میں بھی اوقات و ساعات کا لحاظ ہے۔ نمازوں کے لئے جو اوقات خاص کئے گئے ہیں ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں کے اندر جو اقوات اس کائنات میں کسی بڑے تغیر کی علامت ہیں، جو عالم کے مصرف حقیقی کی عظمت وقدرت کی یاد دہانی کرنے والے ہیں اور جن میں اس کائنات کی دوسری نمایاں چیزیں بھی اپنے خالق کے آگے سرفگندہ ہوتی ہیں، وہی اوقات ہماری نمازوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور خاص اخلاص وقت فجر کا ہے۔ جب رات اپنی بساط لپیٹتی ہے۔ ستارے اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور نئے دن کی سحر طلوع ہوتی ہے اور پھر اس کے ٹھیک مقابل میں عصر کا وقت ہے جب دن کی سرگرمیاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہیں اور سورج اپنے رب کیی آگے سربسجود ہوجانے کے لئے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔ چناچہ آیت میں پہلے انہی دونوں وقتوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ قبل طلوع الشمس سے فجر کا وقت مراد ہے اور قبل الغروب سے عصر کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں نمازوں کی ہمارے دین میں جو اہمیت ہے وہ قرآن اور حدیث دونوں میں واضح فرمائی گی ہے۔