تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 50. Qaaf · Ayah 6
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ﴿6﴾
- اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓاتو کیا وہ نہیں دیکھتے
- اِلَى السَّمَآءِآسمان کی طرف
- فَوْقَهُمْان کے اوپر
- كَيْفَکیسے
- بَنَيْنٰهَابنایا اس کو
- وَزَيَّنّٰهَااور اسکو آراستہ کیا
- وَمَا لَهَااور اس میں نہیں
- مِنْ فُرُوْجٍکوئی شگاف
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے اپنے اور آسمان کو نہیں دیکھا، کس طرح ہم نے اس کو بنایا اور اس کو سنوارا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنیاھا وزینھا وما لھا من فروج، والارض مددنھا مالقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (8-6)
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ
یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثر پذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔
سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند کیا، اس کو ستاروں سے سجایا اور ہماری قدرت و حکمت کا اعجاز ہے کہ ایسین اپیدار کنار چھت میں کہیں کسی رخنہ کی نشان دہی وہ نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی قدرت و حکمت کا یہ کرشمہ وہ اپنے سروں پر دیکھتے ہیں، کیا اس کے لئے ان کے مرن کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کردینا مشکل ہوجائیگا ؟
اس کے بعد قدرت و حکمت کے ساتھ اپنی ربوبیت اور پرورش کے اہتمام کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہ اپنے نیچے دیکھیں کہ کس طرح ہم نے زمین کو ان کے قدموں کے نیچے بچھایا ہے اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اس کے اندر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور اس میں طرح طرح کی چیزیں اگا رکھی ہیں جو ان کی غذا کے کام آتی ہیں اور جن کی خوش منظری ان کی باصرہ نوازی بھی کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت و حکمت اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں وہ دیکھ رہے ہیں کیا اس کے لئے دشوار ہے کہ وہ ان کے مرجانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے ؟ کیا جس پروردگار نے ان کی پرورش کا یہ اہتمام کر رکھا ہے وہ ان کو اس طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ کھائیں پئیں، عیش کریں، ان سے کبھی اس باب میں کوئی پرسش نہیں ہوگی۔
یہ دنیا اپنے وجود میں ایک درس گاہ معرفت ہے۔
تبصرۃ و ذکری لکل عبد منیب یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے اندر اپنی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی یہ شانیں اس لئے نمایاں فرمائی ہیں کہ جو لوگ توجہ کرنے والے ہیں، ان کے اندر یہ بصیرت اور یاد دہانی پیدا کریں۔ تبصرۃ سے مراد آنکھوں کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے کہ وہ ظاہر سے گذر کر اس حقیقت تک پہنچ سکیں جس کی طرف ظاہر رہنمائی کر رہا ہے۔ اور ذکری سے مراد غفلت کے حجاب کو دور کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے چپہ چپہ کو ایسے عجائب اور کرشموں سے بھر دیا ہے جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کے جھنجھوڑنے اور جگانے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن یہ کرشمے ان پر کار گر ہوتے ہیں جن کے اندر اثر پذیری کی حس موجود ہو۔ جو لوگ اپنی محسوس پرستی کی وجہ سے اپنی یہ حس لطف مردہ کرچکے ہوں ان کے لئے یہ ساری کائنات ایک عالم ظلمات ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ، ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ دنیا اپنے بقا کے لئے ان تمام رنگا رنگیوں اور گل کاریوں کی محتاج نہیں تھی جو اس کے ہر گوشے میں نمایاں ہیں، لیکن قدرت نے اس فیاضی کے ساتھ اس کے اندر اپنی شانیں جو دکھائی ہیں تو اسی لئے دکھائی ہیں کہ انسان کی وہ حس لطیف جو قدرت، حکمت، حسن اور فی و کرم سے اثر پذیر اور بیدار ہوتی ہے وہ بیدار ہوا اور اس چمن کے ایک ایک پتہ پر جو درس حکمت ثبت ہیں وہ ان کو سیکھے اور سمجھے، لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خالق نے ہر انسان کے اندر توجہ اور انابت کی جو صلاحیت و دیعت فرمائی ہے وہ اس کو بروئے کار لائے۔ اگر کوئی شخص اپنی اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے بلید و بےحس جانوروں کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس نے انسان کو ذی ارادہ ہستی جو بنایا ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو شعور اس کو عطا ہوا ہے اس کی قدر کرے اور اس کی رہنمائی میں آگے کے لئے قدم اٹھائے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کی طرف سیم زید روشنی عطا ہوتی ہے ورنہ جو کچھ اس کو عطا ہوتا ہے وہ بھی اس کی ناقدری کی پاداش میں سلب ہوجاتا ہے۔
ان آیتوں میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ اطمینان قلب اور شرح صدر کے لئے بعض حوالے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ سورة نبی اسرائیل میں، ان لوگوں کو خطاب کر کے، جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو مستبعد خیال کرتے تھے، فرمایا ہے۔
اولم یروآ ان اللہ الذی خلق السموات والارض قادر علی ان یخل مثلھم (بنی اسرآئیل :99)
کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر رہنے کہ وہ ان کی طرح پھر پیدا کر دے۔
منکرین قیامت کے اسی شبہ کا جواب سورة نازعات میں ان الفاظ میں دیا ہے۔
ء انتم اشد خلقاً امر السمآء بنھا رفع سمکھا فسرلھا، واعظ لیلھا واخرچ ضعھاہ والارض بعد ذلک وحھاہ اخرج منھامآء ھاومرعھاہ والجبال ارسھا منتاعاً لکم ولانعامکم ط (السنوعت 33-27)
کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا ڈ اس کو بنایا، اس کے گنبد کو بلند کیا، پھر اس کو اچھی طرح ہموار کیا اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بےنقاب کیا اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو لنگر انداز کیا۔ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کو برتنے کے لئے۔
ان آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں قدرت، عظمت، حکمت اور ربوبیت کے وہ سارے پہلو، کچھ مزید وسعت کے ساتھ سمٹ آئے ہیں جن سے سورة ق کی زیر بحث آیات میں قیامت کے وقوع، اس کی ضرورت اور اس کے مقتضائے صفات الٰہی ہونے پر استدلال فرمایا گیا ہے۔