تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 52. At-Tur · Ayah 28
اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ع﴿28﴾
- اِنَّابیشک ہم
- كُنَّاتھے ہم
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- نَدْعُوْهُ ۭاس سے دعا کرتے۔ اسی کو پکارا کرتے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَ الْبَرُّوہی محسن ہے
- الرَّحِيْمُرحم فرمانے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے رہے تھے، بیشک وہ بڑا ہی با وفا اور مہربان ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(انا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو لبرالرحیم (28)
(انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید کی ہے) اس جملہ کا تعلق اوپر والے جملہ (انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین) سے ہے، یعنی ایک تو یہ کہ ہم اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں، دوسرے یہ کہ ہم خوف اور طمع، امیدوارہر حال میں خدا ہی کو پکارنے والے رہے ہیں۔ اس کے سوا کسی اور کی کبھی ہم نے نہ دہائی دی اور نہ کسی کو اس کا شریک و مبہم جانا۔ اس جملہ کو اصلاً آنا تو اوپر والے جملہ ہی کے ساتھ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی مہارت ظاہر کرنے کے لیے (فمن اللہ علینا) الایۃ کو اس پر مقدم کردیا اور اس کو موخر کردیا۔ اس تاخیر میں یہ بلاغت ہے کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ ٔ توحید کو حاصل ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا مستحق ٹھہرا اور جس نے اس میں خرابی پیدا کی اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس عقیدہ میں مستحکم رہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان فرمایا۔
(انہ ھو البرالرحیم) یہ فقرہ غایت درجہ ممنونیت کے اظہار کے طور پر وہ فرمائیں گے کہ وہ بڑا ہی باوفا اور بڑا ہی مہربان ہے کہ اس نے نہ صرف وہ تمام وعدے پورے کیے جو اپنے بندوں سے کیے، بلکہ ان کو اپنے کرم مزید سے بھی نوازا۔ لفظ بر کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ سب کو پورا کرنے والا ہے۔ صدق اور وفا اس لفظ کی اصل روح ہے۔ اس کے ساتھ رحیم کا اضافہ اس حقیقت کو ظاہر کررہا ہے کہ وہ صرف وعدے ہی پورے کرنے والا نہیں، بلکہ بندوں کو کوتاہیوں سے در گزر کر کے ان کو اپنے مزیدافضال سے نوازنے والا بھی ہے۔