تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 17
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَآسان کردیا ہم نے قرآن کو
- لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
- فَهَلْتو کیا
- مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے نہایت موزوں بنایا ہے۔ تو ہے کوئی یاد دہانی حاصل کرنے والا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر) (17) یہ آیت ہر سر گزشت کے بعد، ٹیپ کے بند کے طور، بار بار آئے گی۔ اس کا مطلب اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے تاکہ ہر جگہ وضاحت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(تیسیر اور ذکر کا مفہوم)۔ اس آیت کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو حفظ کرنے یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان کتاب بنایا ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود صحیح ہے کہ قرآن حفظ کرنے کے لیے بھی آسان ہے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے بھی سہل ہے لیکن آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے۔ لفظ تیسیر عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے درست کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے اس کو آراستہ و پیرا ستہ کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً (یسرالفرس للرکوب) کے معنی ہوں گے گھوڑے کو تربیت دے کر اس کو کھلا پا کر زین، لگام، رکاب سے آراستہ کر کے سواری کے لیے بالکل ٹھیک ٹھاک کردیا۔ یہیں سے یہ لفظ کسی شخص کو کسی مہم کے لیے تیار اور جملہ لوازم سے مسلح کر کے اس کو اس کا اہل بنا دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک جاہل شاعر کہتا ہے۔ (ونعین فاعلنا اذا مانا یہ۔۔۔۔ حتی نیسرہ لفعل السید)۔ (اور جب ہمارے سربراہ کار کو کوئی مہم پیش آتی ہے تو ہم اس کی مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ سرداروں کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی راہ اس کے لیے ہموار کردیتے ہیں)
لفظ ذکر بھی یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی تعلیم، تذکیر، آگاہی، تنبیہ، نصیحت، موعظت، حصول عبرت اور اتمام حجت سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ ان تمام مفہوموں میں یہ لفظ قرآن میں بھی آیا ہے۔ یہ حقیقت بھی یہاں پیش نظر رہے کہ قرآن مجید ہمارے اوپر کوئی چیز خارج سے نہیں لا دتا بلکہ ہماری ہی فطرت اور ہماری ہی عقل کے اندر اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کے جو خزانے و دیعت فرمائے ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں، انہی کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا اور اس سے بہرہ مند ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کا صحیح مفہوم سمجھ لینے کے بعد اب آیت کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر غور فرمایئے اور یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں وہ ایک امر شدنی ہے۔ آفاق وانفس سب سے اس کے گواہ ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ اس کی شاہد ہے لیکن تم مچلے ہوئے ہو کہ جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے تب مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن اتارا ہے جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے جملہ لوازم سے آراستہ و مسلح ہے تو آخر اس عظیم نعمت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے، عذاب کے تازیانے ہی کے لیے کیوں بےقرار ہو ! !
4۔ تیسیرا قرآن کے چند پہلو
تیسیر قرآن ا کے مختلف پہلوئوں پر ہم اپنی کتاب ”مبادیٔ تدبر قرآن، میں مفصل بحث کرچکے ہیں۔ یہاں ان کے اعادے کی گنجائش نہیں ہے کہ لیکن آیت کے تعلق سے چند ضروری باتوں کی طرف ہم یہاں بھی ارشاد کریں گے تاگ کہ ان لوگوں کی غلط فہمی رفع ہو جو اس آیت سے استدال کرتے ہیں کہ قرآن ایک سہل اور سپاٹ کتاب ہے جو صرف حفظ وتلاوت کے لئے نازل ہوئی ہے، اس کے سمجھنے کے لئے کسی تفکر وتدبتر کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے زعم میں ہر شخص جو الٹی سیدھی عربی سمجھ سکتا ہے وہ بےتکلف قرآن بھی سمجھ سکتا ہے۔ یہ غلط فہمی فہم قرآن کی راہ کو مسدود کردینے والی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ تیسیرِ قرآن کے جن پہلوئوں کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ہم ان کو یہاں بالا جمال یکجا کردیں۔ ٭تیسیرِقرآن کا سب سے نمایاں پہلو جس کا قرآن نے بار بار حوالہ دیا ہے یہ ہے کہ وہ ’ عربی مبین ‘ میں نازل ہوا ہے، یعنی قرین کی فصیح وبلیغ ٹکسالی زبان ہیں جس میں کوئی کج پیچ نہیں ہے تاکہ اہل عرب اس کو خوبی سے سمجھ سکیں اور ان پر اللہ تعالییٰ کی محبت تمام ہوجائے۔٭دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے نجما ً نجما ً یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے باللہ ریج نازل فرمایا تاکہ نبی ﷺ اس کو بالتّدریج سنائیں اور سکھائیں اور لوگ اس کو بالتدریج سنیں سمجھیں اور اس کی تعلیمات اچھی طرح ہضم کریں۔ ”وقراناً فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلنہ تنزیلا“ (بنی اسرائیل : 106) اور قرآن کو ہم نے قسط قسط کر کے اتارا تاکہ تم لوگوں کو اس کی تعلیم ٹھہر ٹھہر کر دو)۔ اگر پورا قرآن بیک دفعہ جملۃ واحدۃ نازل کردیا جاتا۔ جیسا کہ کفار کا مطالبہ تھا ،۔ تو یہ چیز تیسرا قرآن کے منافی ہوتی۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کی تمام بنیادی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے الفاظ اور فقروں اور چھوٹی چھوٹی جامع اور محکم سو رتوں کی شکل میں نازل ہوئیں تاکہ لوگوں کے لئے ان کا اخذ کرنا، ان کو محفوظ رکھنا، ان پر عمل کرنا اور دوسروں تک ان کو پہنچانا آسان ہو۔ بعد میں جب لوگ مانوس ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے ان گٹھے ہوئے محکم فقروں کو ووضاحت فرمائی۔ کتب احکمت ایتہ ثم فصلت ‘ (ھود : 1) میں اسی تیسیر کی طرف اشارہ ہے۔ چوتھا پہلویہ ہے کہ قرآن میں ہر بات گو نا گوں پہلوئوں سے مختلف شکلوں، صورتوں، مختلف سوابق و لواحق اور نئے نئے اطراف و جوانب کے ساتھ بیان ہوئی ہے تاکہ ایک جگہ قاری کے ذہن میں بات نہیں آئی ہے تو دوسری جگہ آجائے اور ایک مقام میں کوئی دلیل دل میں نہیں اتری ہے تو دوسرے سیاق وسباق میں وہ ذہن نشین ہوجائے، قرآن نے اس چیز کو تصریف آیات، سے تعبیر فرمایا ہے۔ کذلک نصرف الایت۔ (الاعرف : 58) پانچواں پہلو یہ ہے کہ قرآن میں مکی اور مدنی سورتوں پر مشتمل سات گروپ ہیں۔ یہ ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ہر گروپ میں مطالب مشترک بھی ہیں اور فی الجملہ ایک دوسرے سے ممتاز بھی ہر سورة اپنے ساتھ ایک مثنی بھی رکھتی ہے اور یہ دونوں مل کر اپنے زیر بحث موضوع کو ایک مکمل سورت میں پیش کرتی ہیں۔ ’ کتباً متشا بھا مثانی ‘(الزمر : 3 2) اور ولقد اتینک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم (الحجر : 87) کے تحت ہم ان اجمالات کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ظا ہے کہ ترتیب کا یہ اہتمام اللہ تعالیٰ نے تیسیر ہی کے مقصد سے اختیار فرمایا ہے۔