تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 18
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿18﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- عَادٌعاد نے
- فَكَيْفَتو کس طرح
- كَانَ عَذَابِيْتھا عذاب میرا
- وَنُذُرِاور ڈراوے میرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
عادنے بھی تکذیب کی تو دیکھو کس طرح واقع ہوا میرا عذاب اور میرا ڈروا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
5۔ آگے آیات 18۔ 2 4 کا مضمون۔ جس مقصد سے اوپر حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت بیان ہوئی ہے بعینہ اسی مقصد سے آگے عاد، ثمود، قوم لوط اور آل ِ فرعون کی ہرگز شت تمام ہوئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے کذیت عاد کیف کان عذانی ونذر (18) انا ارسلنا علیھم (آیات 18۔ 47)۔
(1 ؎) ملاحظہ ہو تدتبر قرآن، جلد پنجم، صفحہ : 580، (2 ؎) ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات : 2 2 6۔ 4 2 6
6۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
کذبت عادفکیف کان عذابی وفذر (18) عاد کی سرگزشت ’ کذبت عاد کے بعد بالنذر ٗ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔ آگے کے ذکر میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ چناچہ فرمایا ہے۔ کذبت ثمود بالنذر۔ نذر، نذیر، کی جمع بھی ہے اور انذارء سے اسم یا حاصل مصدر بھی۔ اگر نذیر کی جمع مانیے تو اس کے معنی ہوں گے ڈرانے والے رسول، آگاہی دینے والی نشانیاں، بیدار کرنے والی تنبیہات، اور اگر اس کو حاصل مصدر کے مفہوم میں لیجئے تو اس کے معنی ہوں گے ڈراوا، تنبیہ، آگاہی اور تہدیدو وعید قرآن میں یہ لفظ ان تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت موقع محل کی مناسبت کا لحاظ ضروری ہے۔