Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 31

  1. اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ﴿31﴾

    1. اِنَّآبیشک ہم نے
    2. اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. صَيْحَةًایک دھماکہ
    5. وَّاحِدَةًبس ایک ہی
    6. فَكَانُوْاتو تھے وہ
    7. كَهَشِيْمِمانند گھاس کے
    8. الْمُحْتَظِرِباڑے والے کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے ان پر ایک ہی ڈانٹ بھیجی تو وہ باڑھ والے کی باڑھ کے چورے کی طرح ہو کر رہ گئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اناارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانو اکھشیم المحطتظر (31) (یہ اشارہ اس عذاب کی طرف ہے جو ان پر آیا (صیعۃ) کے معنی کڑک کے ہیں۔ دوسرے مقام میں لفظ صاعقۃ بھی آیا ہے۔ استاذ امام نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس عذاب کی نوعیت پر قرآن کی روشنی میں مفصل بحث کی ہے۔ آخر میں خلاصہ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ”اس تفصل سے معلوم ہوا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے سرما کے بادلوں، تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب مطلب کیا۔ لیکن اصل تباہی ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی۔ اس وجہ سے اگر اثر سے موثر پر استدلال کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے سرما کے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی“۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ اس طرح کی گرج چمک کے لوازم میں سے ژالہ باری بھی ہے جو اگر شدت اختیار کرے تو سنگ باری کے ہولناک عذاب کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور ہر چیز کو بھس بنا کر رکھ دیتی ہے۔ (فگانو کھشیم المحتظر محتظ) باڑھ جانے والے کو کہتے ہیں۔ چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لیے میدانوں میں جھاڑ جھنکاڑ کی باڑھ بنا لیتے ہیں جس کے ا ندر شب میں گلہ کو محفوظ کردیتے ہیں۔ اس قسم کی باڑھ کچھ عرصہ کے بعد بارش، ہوا اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ ھشیم اسی طرح کی ریزہ ریزہ چیز کو کہتے ہیں۔ یہ ان کی تباہی کی تمثیل ہے کہ ہوا، بارش، سنگباری اور کڑک نے اس طرح ان کو چور چور کردیا جس طرح باڑھ والے کی باڑھ چور چور ہو کے رہ جاتی ہے، یعنی دیکھنے والا ان کے گھروں اور آبادیوں کو دیکھتا تو یہ گمان کرتا کہ کبھی یہاں کچھ بسے تو تھے لیکن اب صرف ان کے روندے ہوئے آثار باقی رہ گئے ہیں۔