Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 41

  1. وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ﴿41﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
    2. جَآءَآئے
    3. اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُآل فرعون کے پاس ڈراوے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ولقد جاء ال فرعون النذرہ کذبوا بایتنا کلھا فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر) (41، 42) (واقعہ فرعون)۔ یہ آخر میں فرعون اور اس کی قوم کیا نجام کی طرف بھی بالا جمال اشارہ کردیا۔ آل فرعون سے مراد ظاہر ہے کہ صرف فرعون کے اہل و عیال ہی نہیں بلکہ اس کی پوری قوم ہے۔ نذر یہاں جمع کے مفہوم میں ہے اور (کذبوا بایتنا کلھا) کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ یعنی یہ اشارہ انداز کی ان تمام نشانیوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں مصریوں کو قہر الٰہی سے ڈرانے کے لیے ظاہرہوئیں اور جن کی پوری تفصیل تورات میں بھی موجود ہے اور قرآن نے بھی ان کا حوالہ دیا ہے اور ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ہر نشانی آنکھوں کی پٹیاں کھول دینے کے لیے کافی تھی لیکن فرعونیوں کے دل اتنے سخت ہوچکے تھے کہ وہ ساری نشانیاں دیکھنے کے بعد اندھے ہی بنے رہے۔ (اخذ عزیز مقتدر) سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جب ہم نے ان کو پکڑا تو اس طرح پکڑا جس طرح ایک زبردست اور بےپناہ قدرت والا پکڑتا ہے جس کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو بچا نہیں سکتا۔