تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 43
اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ﴿43﴾
- اَكُفَّارُكُمْکیا کفار تمہارے
- خَيْرٌبہتر ہیں
- مِّنْ اُولٰٓئِكُمْان لوگوں سے
- اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌیا تمہارے لیے کوئی معافی ہے
- فِي الزُّبُرِصحیفوں میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
(کیا تمہاری قومی کے کفار ان قوموں کے کفار سے کچھ بہتر ہیں یا تمہارے لیے آسمانی صحیفوں میں برأت نامہ لکھا ہوا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
7۔ آگے آیات 43۔ 55 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ قریش کے لیڈروں کو براہ راست خطاب کر کے ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ رسولوں اور ان کی قوموں کی جو تاریخ تمہیں سنائی گئی ہے اسی کے آئینہ میں اپنا حشر بھی دیکھ لو۔ پچھلے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام ہوچکا آخر تمہیں کیا سر خاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ تمہاری سامنے وہ انجام نہیں آئے گا۔ تم بھی انہی کی طرح اس دنیا بھی ذلیل و خوار ہوگئے اور آخرت میں جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ اس سے کہیں سخت ہوگا۔ آخر میں بالا جمال اس صلہ کا بھی ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو ملنے والا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
8۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(اللہ تعالیٰ کا۔ سب کے لیے یکساں ہے)۔ (اکفارکم خیر من اولیکم امر لکم براۃ فی الذبر) (43)۔ یہ قریش سے خطا ب ہے جن سے اوپر سے بحث چلی آرہی ہے ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ رسولوں کے انداز کی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام ہوا اس کی تفصیل تم نے سن لو۔ اب بتائو کہ انہی کی روش جب تم نے اختیار کی ہے تو آخر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں کرے گا ؟ کیا تمہاری قوم کے کفار ان سے بہتر ہیں یا آسمانی صحیفوں میں تمہارے لیے کوئی برأت نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو، تم سے کوئی پرسش نہیں ہونی ہے ! اللہ کے عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ ایک ہی قانون کے تحت معاملہ کرے اور یہی بات اس نے اپنے صحیفوں میں لکھی بھی ہے تو آخر تم نے اپنے لیے یہ عفو عام کا پروا نہ کہاں سے حاصل کرلیا ! یہی مضمون دوسرے مقام میں یوں ارشاد ہوا ہے (ام لکم کتب فیہ تدرسون ان لکم فیہ لما تخیرون) (القلم : 37 : 38) کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے اس میں وہی کچھ ہے جو تم چاہو گے)